خطبات محمود (جلد 23) — Page 573
* 1942 573 خطبات محمود اندازہ اور قیاس بھی پہلے لوگ کہاں کر سکتے تھے اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے۔جیسے کوئی شخص میاں بیوی کو آپس میں ملتا دیکھے تو اس وقت وہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عورت بانجھ ہو گی یا صاحب اولاد۔مرد نامرد ہو گا یا اس کا کوئی بچہ ہو گا۔پھر اگر بچہ پیدا ہوا تو وہ زندہ رہے گا یا نہیں اگر زندہ رہے گا تو وہ علم والا ہو گا یا جاہل۔اگر علم والا ہو گا تو وہ اپنے علم کو استعمال کرنے والا ہو گا یا نہیں۔اگر علم کو استعمال کرنے والا ہو گا تو اسے کامیابی کے مواقع میسر آئیں گے یا نہیں۔اگر کامیابی کے مواقع اسے میسر آگئے تو وہ ان مواقع سے فائدہ بھی اٹھا سکے گا یا نہیں اور اگر ان مواقع سے وہ فائدہ اٹھا سکا تو اسے ایسا ماحول بھی میسر آئے گا یا نہیں جس میں وہ پنپ سکے اور ترقی کر کے دوسروں کی نگاہ میں ایک ممتاز مقام حاصل کر سکے لیکن اس کے مقابلہ میں ایک وہ شخص ہوتا ہے جو ایک فاتح کو اس کی فتوحات کے زمانہ میں دیکھتا ہے اس کی بلندی اور شان و شوکت کے زمانہ میں دیکھتا ہے۔اس وقت وہ ان خیالات کا اندازہ بھی نہیں کر سکتا جو اس کے ماں باپ کی شادی میں شامل ہونے والوں کے دلوں میں تھے اور نہ اس کے ماں باپ کی شادی میں شامل ہونے والے ان فتوحات کا قیاس کر سکتے تھے جو ان کے بیٹے کو حاصل ہونے والی تھیں اور یا پھر اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص ایک درخت لگا تا اور زمین میں اس کی گٹھلی ہوتا ہے۔وہ اس وقت اندازہ اور قیاس بھی نہیں کر سکتا کہ اس درخت کی آئندہ کیا حالت ہو گی۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گٹھلی گل سڑ جاتی ہے اور اس سے کوئی درخت پیدا نہیں ہو تا اور بسا اوقات اس سے ایک بہت بڑا درخت پیدا ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ تو اس کا پھل ایسا لذیذ نکل آتا ہے کہ لوگ دور دور سے اسے دیکھنے کے لئے آتے اور اس کا پھل منگوا کر استعمال کرتے ہیں۔پھر وہ آہستہ آہستہ ساری دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے۔دور دور سے لوگ اس کا پیوند حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور اپنے اپنے علاقہ میں اس کا بیج لگانا شروع کر دیتے ہیں اور اس کے میٹھے اور لذیذ پھل کو کھا کر لطف حاصل کرتے ہیں مگر وہ جس نے اس درخت کو پہلی دفعہ لگایا وہ اس کا بیج بوتے وقت یا اس کی گٹھلی لگاتے وقت ان لوگوں کے خیالات کا اندازہ نہیں کر سکتا۔جنہوں نے اس کا لذیذ اور میٹھا پھل کھایا اور اس کے سایہ میں آرام حاصل کیا اور نہ اس کے ذہن کے ن گوشہ میں یہ نظارہ آسکتا ہے کہ دور دور سے بیو پاری آتے ہیں اور اس کا پھل اپنے اپنے