خطبات محمود (جلد 23) — Page 515
* 1942 515 خطبات محمود جمعہ کے لئے جاؤں اور تحریک جدید کے نئے سال کے لئے اسی رنگ میں تحریک کروں جیسے گزشتہ سالوں میں میں ہمیشہ تحریک کرتا چلا آیا ہوں۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس معاملہ میں میرے ساتھ ایسے معجزانہ رنگ میں سلوک ہوتا ہے کہ میں اسے دیکھ کر حیران ہو جاتا ہوں۔میں نے بتایا ہے کہ کل میرا پیر زمین پر لگنے لگ گیا تھا اور میں چند قدم چلا بھی تھا۔اس بات کے امتحان کے لئے کہ میں جمعہ میں جاسکتا ہوں یا نہیں مگر شام کے وقت ایک نئی جگہ میں درد شروع ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ اب ظاہری تدبیریں چارہ کار نہیں ہو سکتیں۔اللہ تعالیٰ سے ہی دعا کرنی چاہئے چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اب جو میں آنے کے لئے اٹھا تو میں یہ تو نہیں کہتا کہ درد بالکل جاتا رہا ہے مگر جب یہاں آنے کے لئے میں نے اپنے پاؤں کو زمین پر رکھا۔تو زمین پر ٹکے ہوئے پیروں میں کچھ دیر تک درد محسوس نہیں ہوا جس سے میں نے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرض کا اس حد تک ازالہ کر دیا ہے کہ میرے لئے اب وہ تکلیف دہ نہیں رہا۔اس کے بعد میں تمام دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ سال ہشتم کی تحریک کے اعلان پر ایک سال گزر گیا اور اب سال نہم کی تحریک کا وقت آگیا ہے۔اس لئے میں ان تمام احباب کو جو قادیان میں موجود ہیں یا قادیان سے باہر ہیں۔ہندوستان میں یا ہندوستان سے باہر ہیں۔ہر اس شخص کو جو احمدی کہلا تا ہے یا ابھی اس کو علی الاعلان جماعت میں شامل ہونے کی توفیق تو نہیں ملی مگر اس کے دل میں احمدیت کی سچائی گھر کر چکی ہے، توجہ دلاتا ہوں کہ اب نواں سال تحریک جدید کا شروع ہو گیا ہے۔پس تمام ایسے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اس امر کی توفیق عطا فرمائی ہے کہ وہ مقررہ شرائط کے مطابق حصہ لے سکیں میں انہیں اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایسے نشانات ظاہر کئے ہیں اور دنیا میں ایسے تغیرات پیدا کرنے شروع کر دیئے ہیں کہ ان کا اندازہ اور قیاس بھی اس سے پہلے نہیں ہو سکتا تھا۔پہلی جنگ جب ختم ہوئی تو اس کے بعد لوگ مذہب سے اور بھی بیگانہ ہو گئے تھے اور اس جنگ کا ان طبیعتوں پر یہ اثر پڑا تھا کہ اگر انسانی زندگی اتنی ہی محدود ہے اور اگر ہماری جانیں اتنے ہی خطرہ میں ہیں تو ہم اپنی زندگی کے اس تھوڑے سے