خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 474

$1942 474 خطبات محمود الله سة آپ نے ان میں سے کسی کو نہ دی۔اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے اور رسول کریم ملی ایم نے وہ تلوار ان کو دے دی اور آپ نے فرمایا علی ! میں امید کرتاہوں کہ تم اس تلوار کا حق ادا کرو گے۔چنانچہ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا حق ادا کر دیا اور ایسے طور پر جنگ میں حصہ لیا کہ دشمن کو شکست ہو گئی۔صا سة رسول کریم صلی الم کی اس سنت کی پیروی میں ہم نے بھی اپنی جماعت کا ایک جھنڈا بنایا ہے۔ابھی پچھلے دنوں خدام الاحمدیہ کا ایک جلسہ ہوا تھا اس جلسہ میں باہر کی جماعتوں کی طرف سے بھی لوگ آئے تھے۔اس میں ایک ایسے واقعہ کا مجھے علم ہو ا جو ایک حد تک میرے لئے خوشی کا موجب ہوا اور میں سمجھتا ہوں جس نوجوان سے یہ واقعہ ہوا ہے وہ اس قابل ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔اس لئے میں یہ واقعہ اپنے خطبہ میں بیان کر دیتا ہوں۔واقعہ یہ ہے کہ لاہور کے خدام جب جلسہ میں شمولیت کے لئے آرہے تھے تو اس وقت جبکہ ریل سٹیشن سے نکل چکی تھی اور کافی تیز ہو گئی تھی ایک لڑکے سے جس کے پاس جھنڈا تھا ایک دوسرے خادم نے جھنڈ ا مانگا۔وہ لڑکا جس نے اس وقت جھنڈا پکڑا ہوا تھا ایک چھوٹا بچہ تھا۔اس نے دوسرے کو جھنڈا دے دیا اور یہ سمجھ لیا کہ اس نے جھنڈا پکڑ لیا ہے مگر واقعہ یہ تھا کہ اس نے ابھی جھنڈے کو نہیں پکڑا تھا۔اس قسم کے واقعات عام طور پر ہو جاتے ہیں۔گھروں میں بعض دفعہ دوسرے کو کہا جاتا ہے کہ پیالی یا گلاس پکڑاؤ اور دوسرا بر تن اٹھا کر دے دیتا ہے اور یہ خیال کر لیتا ہے کہ اس نے پیالی یا گلاس کو پکڑ لیا ہو گا مگر اس نے ابھی ہاتھ نہیں ڈالا ہوتا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بر تن گر جاتا ہے۔اسی طرح جب اس سے جھنڈا مانگا گیا اور اس نے جھنڈا دوسرے کو دینے کے لئے آگے بڑھا دیا تو اس نے خیال کیا کہ دوسرے نے جھنڈا پکڑ لیا ہو گا مگر اس نے ابھی پکڑا نہیں تھا، نتیجہ یہ ہوا کہ جھنڈا ریل سے باہر جا پڑا۔مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ چھوٹا لڑکا جس کے ہاتھ سے جھنڈا گر ا تھا فوراً نیچے کودنے لگا مگر وہ دوسر الڑ کا جس نے جھنڈ امانگا تھا اس نے اسے فوراً روک لیا اور خود نیچے چھلانگ لگا دی۔لاہور کے خدام کہتے ہیں ہم نے اسے اوندھے گرے ہوئے دیکھ کر سمجھا کہ وہ مر گیا ہے مگر فوراً ہی اٹھا اور جھنڈے کو پکڑ لیا اور پھر ریل کے پیچھے دوڑ پڑا۔ریل تو وہ کیا پکڑ سکتا تھا بعد میں کسی دوسری سواری میں بیٹھ کر اپنے