خطبات محمود (جلد 23) — Page 443
* 1942 443 خطبات محمود رکھتا ہے حالانکہ یہ لوٹ مار نہیں ہوتی بلکہ دشمن کو کمزور کرنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔بہر حال انہوں نے سمجھا کہ اب میرا فرض پورا ہو گیا ہے۔انہیں بھوک لگی ہوئی تھی اور چند کھجوریں ان کے پاس تھیں، وہ میدان جنگ سے کچھ پیچھے ہٹ کر فتح کی خوشی میں ٹہلنے لگ گئے اور کھجوریں کھانے لگے، کھجوریں کھاتے اور ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک طرف آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک پتھر ہے جس پر حضرت عمررؓ بیٹھے ہوئے رو ر ہے ہیں وہ ان کو دیکھ کر حیران ہو گئے کہ آج تو ہنسنے کا دن ہے ، خوش ہونے کا دن ہے ، مبارکبادیوں کا دن ہے۔ایسے موقع پر یہ روکیوں رہے ہیں چنانچہ وہ حضرت عمرؓ سے مخاطب ہوئے اور انہیں کہا ارے میاں ! آج تو خوشی کا دن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی اور تم اس وقت رو رہے ہو۔حضرت عمرؓ نے کہا شاید تمہیں پتہ نہیں کہ فتح کے بعد کیا ہوا انہوں نے کہا کیا ہوا۔حضرت عمرؓ نے کہا۔دشمن کا لشکر پیچھے سے آیا اور اس نے دوبارہ حملہ کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی لشکر تتر بتر ہو گیا اور رسول کریم صل ال رومی شہید ہو گئے۔اس انصاری نے کہا عمر تو پھر بھی یہ رونے کا کونسا مقام ہے۔ایک کھجور ان کے ہاتھ میں رہ گئی تھی۔وہ انہوں نے اسی وقت پھینک دی اور اسے کہا۔تیرے اور میرے خدا کے درمیان سوائے ایک کھجور کے اور ہے کیا۔پھر انہوں نے حضرت عمر کی طرف دیکھا اور کہا عمر! اگر رسول کریم صلی ال ا م شہید ہو گئے ہیں تو پھر اس دنیا میں ہمارا کیا کام ہے۔پھر جہاں وہ گئے ہیں وہیں ہم بھی جائیں گے یہ کہہ کر تلوار لی اور اکیلے ہی دشمن کے لشکر پر جو ہزاروں کی تعداد میں تھا، حملہ آور ہو گئے۔ایک آدمی کی ہزاروں کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہوتی ہے۔چاروں طرف سے ان پر حملے شروع ہو گئے اور وہ وہیں شہید ہو گئے۔جنگ کے بعد جب رسول کریم صلی الی یم نے ان کی لاش تلاش کرائی تو ان کے جسم کے سٹر ٹکڑے ملے بلکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کی لاش پہچانی نہیں جاتی تھی۔آخر انگلی کے ایک نشان کے ذریعہ ان کی ایک بہن نے یا کسی اور رشتہ دار نے ان کو شناخت کیا۔8 تو دیکھو تو خدا تعالیٰ نے احد میں اس قسم کا نظارہ کیوں دکھایا۔ہو سکتا تھا کہ وہ خاموشی سے شہید ہو جاتے مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں خاموشی سے شہید نہیں ہونے دیا بلکہ ان کی شہادت کو خوب نمایاں کیا تاکہ ان کے اخلاص اور ایمان کا اظہار ہو اور دنیا کو معلوم ہو کہ جب وہ کہا کرتے تھے کہ میں اگر بدر میں