خطبات محمود (جلد 23) — Page 438
* 1942 438 خطبات محمود عید نہ ہو تب بھی تئیس کے بعد کسی دن جمعۃ الوداع ہوتا ہے۔مگر اس تمام عرصہ میں انہوں نے کوئی کام نہیں کیا ہوتا۔اگر جمعۃ الوداع کے بعد کے ایام میں وہ کام چھوڑ دیتے اور تئیس دن خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفس پر مشقت برداشت کر لیتے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت اور فرماں برداری کرتے تب بھی میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ضرور رحم کرتا اور وہ کہتا میرے ان بندوں نے رمضان میں سے صرف سات دن ضائع کئے ہیں یا چھ دن ضائع کئے ہیں یا پانچ دن ضائع کئے ہیں یا چار یا تین دن ضائع کئے ہیں باقی دنوں سے انہوں نے فائدہ اٹھا لیا ہے مگر وہ تو استقبال اور وداع دونوں اکٹھے کرتے ہیں اور ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی شخص سٹیشن پر کسی کا استقبال کرنے کے لئے جائے تو کہے خوش آمدید ، خدا حافظ یعنی اچھے آؤ اور اچھے جاؤ۔گویا ایک ہی سانس میں وہ یہ کہتا ہے کہ آپ کے آنے کی بڑی خوشی ہے اور اسی سانس میں وہ یہ کہتا ہے کہ آپ کے جانے کا بڑا رنج ہے۔ایسے لوگوں کو رمضان سے کوئی فائدہ نہیں ہو تا بلکہ رمضان ان کے لئے مردہ گزر جاتا ہے۔پھر کسی شخص نے ان کے دل میں یہ غلط خیال پیدا کر دیا ہے کہ اس دن آکر اگر وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر لیں اور چند نفل پڑھ لیں تو اللہ تعالیٰ اپنے سارے گلے اور شکوے بھول جاتا ہے۔بے شک ہمارا خدا بڑا رحم کرنے والا ہے مگر آخر وہ بادشاہ ہے اور بادشاہ تمسخر اور استہزاء کو پسند نہیں کیا کرتے۔وہ کب اس ہنسی کو پسند کر سکتا ہے کہ باقی سارے دن تو غفلت میں گزار دیئے جائیں نہ روزے رکھے جائیں، نہ نمازیں پڑھی جائیں، نہ دعاؤں سے کام لیا جائے، نہ اللہ تعالیٰ کی خشیت اور محبت دل میں پیدا کی جائے اور اس دن مسجد میں آکر دس ہیں نفل پڑھ لئے جائیں اور یہ سمجھ لیا جائے کہ میں خدا کے سارے قرضے اتار آیا ہوں۔ہم بچپن میں ایک قصہ سنا کرتے تھے جسے سن کر ہنسا کرتے تھے حالانکہ در حقیقت وہ ہنسنے کے لئے نہیں بلکہ رونے کے لئے بنایا گیا تھا اور اس میں موجودہ مسلمانوں کا ہی نقشہ کھینچا گیا تھا مگر اس قصہ کے بنانے والے نے اشارے کی زبان میں مسلمانوں کی حالت کو بیان کیا تا کہ مولوی اس کے پیچھے نہ پڑ جائیں۔وہ قصہ یہ ہے کہ کوئی لونڈی تھی جو سحری کے وقت با قاعدہ اٹھا کرتی مگر روزہ نہیں رکھتی تھی۔مالکہ نے سمجھا کہ شاید یہ کام میں مدد دینے کے لئے اٹھتی ہے مگر چونکہ وہ