خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 379

* 1942 379 خطبات محمود میں بڑھتے بڑھتے وہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں منہمک ہو جاتا ہے۔اس کا ذکر اس کی غذا بن جاتا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے عشق سے بھر جاتا ہے تو اس وقت خدا اس کے سامنے آجاتا ہے اور اس وقت وہ صرف اس یقین پر نہیں ہوتا کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے بلکہ وہ خود خدا کو دیکھنے لگ جاتا ہے۔بہر حال نماز کی صورت ایک قشر کی سی ہے اگر کوئی شخص اسی پر بس کر لے اور سمجھ لے کہ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ میں رکوع میں چلا گیا ہوں یا میں نے خدا تعالیٰ کو سجدہ کر لیا ہے یا اس کے حضور کھڑے ہو کر ہاتھ باندھ لئے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اصل حقیقت کی تلاش نہیں کر رہا۔قشر پر ہی خوش ہو گیا ہے۔خدام الاحمدیہ کے لئے جو قوانین مقرر کئے گئے ہیں وہ بھی در حقیقت قشر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے چنانچہ یہ جو کہا گیا ہے کہ خدام الاحمد یہ روزانہ کچھ وقت ہاتھ سے کام کیا کریں۔سڑکوں کو درست کیا کریں، گڑھوں کو پر کیا کریں اور اسی طرح خدمت خلق کے اور کام سر انجام دیا کریں ان کا مقصد یہ ہے کہ ان کے اندر بنی نوع انسان کی ہمدردی کا سچا جذبہ پیدا ہو اور جب لوگوں پر کوئی عام مصیبت کا وقت آئے تو وہ اس مصیبت کو دور کرنے کے لئے آگے بڑھیں اور کسی قسم کا کام کرنے میں عار محسوس نہ کریں۔لیکن اگر ان کاموں کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کی ہمدردی کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔اگر وہ اپنے سیکر ٹری یا کسی اور افسر کے بلانے پر ہاتھ سے کام کرنے کے لئے تو تیار ہو جاتے ہیں لیکن جب ان کا ہمسایہ کسی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اس کو دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ چھلکے کو پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔حقیقت کو اخذ کرنے کی انہوں نے کوشش نہیں کی۔ان کی مثال بالکل ان لوگوں کی سی ہے جو کہتے تھے ہم نے محمد صلی علیم کی تصویر کو قرآن میں دیکھ لیا ہے۔ہم نے محمد صلی علیم کی تصویر کو حدیثوں میں دیکھ لیا ہے اور ہم آپ کو خوب پہچانتے ہیں مگر جب انہوں نے محمد صلی للہ ہم کو مسیح موعود کی شکل میں دیکھا تو آپ کا انکار کر دیا اور نہ صرف انکار کیا بلکہ آپ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا گیا۔اگر ایسے لوگ محمد صلی الی یکیم کے زمانہ میں ہوتے تو یقینا آپ کا بھی انکار کرتے اور آپ پر بھی کفر کا فتویٰ لگا دیتے۔الله سة میں دیکھتا ہوں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ میں خدام الاحمدیہ کے امتحان کا