خطبات محمود (جلد 23) — Page 337
* 1942 337 خطبات محمود محسوس کر رہے ہیں اور ایسے وقت میں ہماری جماعت محفوظ نہیں رہ سکتی کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سارے ملک میں آگ لگی ہو اور ہم محفوظ گھروں میں بیٹھے رہیں۔اول تو یہ بات اخلاق سے بعید ہے کہ آگ لگے اور اسے بجھانے کے لئے ہاتھ نہ بڑھایا جائے۔پھر یہ حماقت بھی ہے کہ جب ہمسایہ میں آگ لگ رہی ہو تو خیال کر لیا جائے کہ یہ ہم تک نہ پہنچے گی بلکہ پرے ہی رہے گی۔اگر یہ آگ بھڑ کی تو اس کا اثر ہماری جماعت پر بھی ضرور پڑے گا اور اگر ہم اس آگ تک نہ گئے تو وہ ہم تک ضرور آئے گی لیکن اس کے ساتھ ایک دوسر انظارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ ہم نے سالہا سال تک انگریزوں کا ساتھ دیا مگر گزشتہ چند سالوں سے جب بھی موقع آیا پنجاب اور بعض دوسرے صوبوں میں ان میں سے بعض نے ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپنے سے دریغ نہیں کیا۔جس قوم کے تعاون اور تائید سے انگریزوں نے پچاس سال تک فائدہ اٹھایا اسے بعض انگریز افسروں نے باغی ثابت کرنے کی کوشش کی اور اس جنگ کا نتیجہ خواہ کچھ نکلے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ انگریز اب ہندوستان میں نہیں رہ سکتے۔فتح کی صورت میں تو وہ خود اعلان کر چکے ہیں کہ ہندوستان کو آزاد کر دیں گے اور شکست کی صورت میں وہ خواہ کہیں یا نہ کہیں انہیں جانا ہی پڑے گا۔اور اگر ہم سابقہ تجربہ پر نگاہ رکھیں تو کہنا پڑے گا کہ وہ دوست کو دشمن بنا کر جانے کے عادی ہیں۔گویا ان کا ساتھ دینے کے معنی اپنے لئے موت کو بلانا ہیں اور اس طرح ہمارے لئے دوہر اخطرہ ہے۔گزشتہ سالوں کے تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سے کم جو سویلین انگریز افسر اس وقت ہندوستان میں ہیں۔ان میں سے بہتوں کی دوستی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا اور وہ اعتبار کے قابل نہیں ہیں۔جن لوگوں نے ذاتی اغراض کے لئے ان سے تعاون کیا ان سے تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ تمہیں ہم نے اس کا معاوضہ ادا کر دیا، کسی کو خان صاحب بنادیا، کسی کو خان بہادر بنا دیا، کسی کو مربعے دے دیئے مگر دنیا کا کوئی انگریز ایسا ہے جس کے اندر شرافت ہو اور وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ سکے کہ تمہیں یا تمہاری جماعت کو ہم نے فلاں فائدہ پہنچایا ہے اور کوئی دنیا میں ایسا انگریز ہے جس کے اندر شرافت ہو اور وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکے کہ تمہاری جماعت سے ہمیں فائدہ نہیں پہنچا۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ پچاس سال تک ہم نے بغیر کسی بدلہ کے ہر موقع پر انگریزوں سے تعاون کیا