خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 338

* 1942 338 خطبات محمود اور ان کو فائدہ پہنچایا اور پھر میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس عرصہ میں ہم نے حکومت سے کبھی ایک پیسہ کا بھی فائدہ نہیں اٹھایا، نہ اٹھانے کے لئے تیار تھے اور نہ اٹھانے کے لئے تیار ہوں گے۔پس ان حالات میں ہمارے لئے یہ بہت مشکل سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا ہم اس فتنہ کو جو سارے ملک کو بھسم کرنے کے لئے چلا آ رہا ہے دبانے کے لئے اٹھیں اور اس قوم کی مدد کریں جو پچھلے تجربہ کی بناء پر اپنے دوستوں سے بیوفائی کرنے کی عادی ہے یا اس کی پچھلی بے وفائی کا خیال کر کے ملک کو اس آگ میں جلنے دیں۔دونوں طرف خطرات ہیں اور ہمیں فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ان دونوں میں سے کونسا فتنہ بڑا ہے۔یہ فیصلہ ہمیں بہت جلد کرنا پڑے گا اور چند دنوں میں کسی نتیجہ پر پہنچنا ہو گا۔اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ آیا کا نگرس کے اراکین کے دلوں میں ایسی اصلاح ہو چکی ہے یا نہیں کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے تیار ہوں۔گزشتہ تجربہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کانگرس کے ہاتھ میں محفوظ نہیں ہیں اور اب پتہ نہیں کہ اس میں اصلاح ہو چکی ہے یا وہ اب بھی مسلمانوں کی ویسی ہی دشمن ہے جیسی پہلے تھی۔مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن اس وقت تک کے تجربہ کے لحاظ سے گاندھی جی ہیں، انہیں تو مسلمانوں سے کچھ ایسا بغض ہے کہ جہاں انہیں مسلمانوں کا کوئی فائدہ نظر آئے انہیں سر سے لے کر پاؤں تک آگ لگ جاتی ہے۔سر سٹیفورڈ کرپس کی تجاویز کے بھی یہ صاحب اسی وجہ سے مخالف ہیں کہ ان کے مطابق وہ سمجھتے ہیں مسلمانوں کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے اور ان کو بھی آزادی مل سکے گی۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وہی شخص جو کہتا تھا کہ انگریز صرف اتنا بتا دیں کہ وہ ہندوستان کو کب آزاد کریں گے اور اگر وہ اتنا بتا دیں تو میں صدیوں تک بھی انتظار کر سکتا ہوں، آج دو سال بھی انتظار نہیں کر سکتا۔اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی ہے کہ اسے خیال ہے کہ اس آزادی سے کچھ حصہ مسلمانوں کو بھی مل سکے گا۔وہ گاندھی آج کہاں ہے جو کہا کرتا تھا کہ اگر انگریز آزادی کے لئے معین وقت بتادیں تو میں ان گنت سالوں تک انتظار کر سکتا ہوں۔آج وہ کیوں کہتا ہے کہ آج ہی آزادی دے دی جائے۔اسی لئے کہ وہ سمجھتا ہے دو تین سال کے بعد جو آزادی ملے گی اس میں ممکن ہے مسلمانوں کا بھی کچھ حصہ ہو۔وہ کتے کے طور پر اپنی ڈیوڑھی پر بٹھا کر مسلمان کو کیک کھلانے کے لئے تو تیار ہے مگر ساتھ بٹھا کر سوکھا ٹکڑا