خطبات محمود (جلد 23) — Page 335
* 1942 335 خطبات محمود ڈالے ہوئے ہیں۔یہ گویا پولیس کی کارروائی کا ایک طرح کا جواب تھا کہ تم تو اچانک پکڑنے آئے ہو مگر ہمیں گر فتاری کا پہلے سے علم ہے اور ہم نے بطور مبارک باد اپنے بھائی کے گلے میں ہار ڈالے ہوئے ہیں۔انہی ایام میں مجھے شملہ میں سر ہر برٹ ایمرسن کو جو بعد میں پنجاب کے گورنر بن گئے تھے اور اس وقت ہوم ممبر تھے ، ملنے کا اتفاق ہوا۔میں نے ان سے ذکر کیا اور کہا کہ یہ حالات ہیں اور حکومت کی کوئی بات نہیں جس کا کانگرس کو علم نہ ہو جاتا ہو۔میں نے بعض واقعات کی طرف اشارہ بھی کیا جو مجھے کانگرسیوں سے معلوم ہوئے تھے اور میں نے سر ہر برٹ ایمرسن سے کہا کہ اس صورت میں مخفی رکھنے اور چھپانے کا کیا فائدہ ہے جبکہ ہر محکمہ میں کانگرس کے جاسوس موجود ہیں۔گورنمنٹ کا کونسا ارادہ ہے جسے وہ کانگرسیوں سے چھپا سکتی ہے۔سر موصوف نے اس کے جواب میں ہنس کر کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے راز کانگرس کو معلوم ہو جاتے ہیں اور ان کے جاسوس سرکاری محکموں میں ہیں لیکن یہ بات یک طرفہ نہیں۔ہمیں بھی ان کے راز معلوم ہو جاتے ہیں اور ہمارے جاسوس بھی کانگرس میں ہیں۔میں نے کہا کہ کانگرس کے راز آپ کو معلوم ہو جانے سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا کیونکہ آپ تو گورنمنٹ ہیں لیکن وہ باغی ہیں اور ان کو حکومت کے راز معلوم ہونے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔حکومت کو باغیوں کے حالات معلوم ہو جانے سے اتنا فائدہ نہیں ہو سکتا جتنا باغیوں کو حکومت کے راز معلوم ہو جانے سے ہو سکتا ہے۔بہر حال آج کانگرس کی طاقت پہلے سے بہت زیادہ ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت اس کی مدد پر بعض غیر حکومتیں بھی ہیں۔پہلے جب کبھی کانگرس شورش کرتی تو بعض بیرونی ممالک زبانی ہمدردی تو کرتے مگر ایسا فائدہ کسی کا وابستہ نہ تھا کہ زیادہ مقدار میں کانگرس کی مدد کرتے لیکن آج ایسی حکومتیں ہیں جو ہر رنگ میں ان کی مدد پر آمادہ ہو سکتی ہیں اور ایسے ذرائع موجود ہیں جن سے وہ روپیہ اور مختلف سامان ان کو پہنچاسکتے ہیں۔آج سے نہیں بلکہ بہت پہلے سے جب جنگوں کا سوال ہی نہ تھا۔ہندوستان میں ان ملکوں نے ایسی ایجنسیاں قائم کر رکھی تھیں کہ جن کے ذریعہ وہ انگریزوں کے مخالفوں میں روپیہ وغیرہ تقسیم کرتے تھے۔انگریز حیران تھے کہ انار کسٹوں کو روپیہ کہاں سے مل رہا ہے حالانکہ وہ مغربی کمپنیوں کے ذریعہ ہی