خطبات محمود (جلد 23) — Page 334
خطبات محمود 334 * 1942 ایک تو اس کا نظام ہے جو بیس سال کے تجربہ سے پہلے کی نسبت آج بہت زیادہ مکمل ہے۔یہ نظام اس وقت نہ تھا جب گاندھی جی نے پہلی تحریک جاری کی تھی۔آج کانگرس کا ہاتھ اتنا مضبوط ہے کہ بظاہر تو وہ ایک سوسائٹی ہے مگر در حقیقت وہ حکومت کا رنگ رکھتی ہے اور حکومت کا کوئی محکمہ ایسا نہیں جس میں اس کے جاسوس موجود نہ ہوں۔آج انگریز نہیں کہہ سکتے کہ وائسرائے کے گھر کے افسروں میں کانگرس کے آدمی نہیں ہیں۔انگریز نہیں کہہ سکتے کہ گورنمنٹ میں کانگرسی نہیں، انگریز نہیں کہہ سکتے کہ پولیس میں کانگرس کے آدمی نہیں حتی کہ آج فوج میں بھی کانگرسیوں کے آدمی موجود ہیں۔کو نسلوں میں بھی کا نگر سی ہیں اور ہر جگہ ایسے آدمی موجود ہیں جو گو مُنہ سے حکومت کی وفاداری کا اقرار کرتے ہیں مگر دل سے کانگرس کے ساتھ ہیں۔ہر وزیر کے دفتر میں کانگرسی ہیں، حکومت کے تمام بڑے بڑے عہدوں میں سے کچھ کانگرسیوں کے ہاتھ میں ہیں۔بظاہر وہ کانگرس سے بے تعلق ہیں مگر بہ باطن ان کی ساری ہمدردیاں کانگرس کے ساتھ ہیں اور وہ اسی لئے حکومت کے اداروں میں گھسے ہوئے ہیں کہ وقت آنے پر کانگرس کا ساتھ دیں۔غالباً 1930ء میں کانگرس کی شورش شروع ہوئی۔اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ حکومت کے بہت سے راز کانگرسیوں کو معلوم ہو جاتے ہیں بلکہ قریباً سارے ہی راز ان کو معلوم ہو جاتے ہیں اور بعض معین مثالیں مجھے بعض کا نگر سیوں نے بتائیں کہ کس طرح ہمیں معین اطلاعات حاصل ہوتی ہیں۔جب حکام کسی کا نگرسی کو قید کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ ہمیں پہلے سے ہی بتا دیتے ہیں اور ہم اس جگہ سے جہاں پولیس نے چھاپہ مارنا ہو پہلے ہی تمام ریکارڈ وغیرہ نکال لیتے ہیں اور گرفتار ہونے والا اطمینان کے ساتھ پولیس کے آنے کا منتظر ہوتا ہے۔پولیس چھاپہ مارتی اور سمجھتی ہے کہ خفیہ کاغذات وہاں سے ہاتھ آئیں گے لیکن وہ پہلی اطلاع کے مطابق وہاں سے کھسکا دیئے جاچکے ہوتے ہیں بلکہ اس زمانہ میں انہوں نے پولیس سے اس طرح تمسخر کرنا شروع کر دیا کہ پولیس نے کسی جگہ چھاپہ مار کر کسی کو پکڑنا چاہا مگر جب وہ وہاں پہنچی تو یہ دیکھ کر حیران ہو گئی کہ جسے وہ پکڑنے آئے ہیں اس کے ارد گر د پانچ سات دوست بیٹھے ہیں اوراس کے گلے میں پھولوں کے ہار وغیرہ