خطبات محمود (جلد 23) — Page 326
* 1942 326 خطبات محمود وہ چونکہ دلدل کی جگہ تھی اس لئے اگر وہ اسی جگہ بیٹھ جاتے تو اندر دھنس کر سب کے آلات خراب ہو جاتے۔اوزار اور ہتھیار خراب ہو جاتے ، کپڑے خراب ہو جاتے اور ان کے لئے کام کرنا مشکل ہو جاتا۔افسروں نے کہا کہ یہاں تو آرام کرنے کی کوئی صورت نہیں ، دلدل سے باہر نکل کر آرام کیا جا سکتا ہے مگر سپاہیوں نے کہا کہ ہم چلنے سے بالکل معذور ہیں۔ہم اس قدر تھک چکے ہیں کہ اب ہم سے ایک قدم بھی اٹھایا نہیں جاسکتا۔آخر یہ بات نپولین تک پہنچی اس نے کہا یہ کوئی مشکل امر نہیں میں تم سب کو آرام دے دیتا ہوں۔تم کہیں سے صرف ایک کر سی لا دو، وہ ایک کرسی جو غالبآًبادشاہ کے لئے رکھی ہوئی تھی، لے آئے اور نپولین اس پر بیٹھ گیا۔پھر اس نے ایک افسر کو کہا کہ آؤ اور میری گودی میں بیٹھ جاؤ وہ نپولین کی گودی میں بیٹھ گیا تو اس نے حکم دیا کہ اسی طرح یکے بعد دیگرے ایک ایک آدمی دوسرے کی گودی میں بیٹھتا چلا جائے اور ایک حلقہ بنالیا جائے چنانچہ سب لوگ اسی طرح بیٹھتے چلے گئے۔جب آخری آدمی نپولین کی پشت کی طرف پہنچا تو نپولین نے اسے کہا کہ میرے نیچے سے کرسی نکال دو اور اپنی ٹانگوں پر مجھے بٹھا لو۔چنانچہ کرسی نکال کر دوسروں کو دے دی گئی اور پھر جو لوگ باقی رہ گئے تھے وہ اس کرسی کے ذریعہ اسی طرح بیٹھتے چلے گئے اور اس طرح ساری فوج کو آرام مل گیا۔ہم جب بچے تھے تو ہم نے خود اس کا تجربہ کر کے دیکھا ہے ذرا بھی بوجھ محسوس نہیں ہو تا اور سب کو آرام حاصل ہو جاتا ہے۔اب بظاہر اس میں ایک آدمی نے دوسروں کو اٹھایا ہوا ہو تا ہے لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ہر شخص دوسرے کو آرام پہنچا رہا ہو تا ہے یہی حال اخلاق کا ہے۔اگر ایک شخص جوش کے وقت اپنے غصہ کو دبالیتا ہے تو در حقیقت وہ دوسرے کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ جب اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ بھی اسی طرح اپنے غصہ کو دبا لے۔پھر اس دوسرے سے تیسرے کو تحریک ہوتی ہے اور تیسرے سے چوتھے کو تحریک ہوتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص فتنہ سے محفوظ رہتا ہے اور انہیں اس بات کی عادت ہو جاتی ہے کہ وہ اشتعال کے وقت اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں۔بظاہر یہ ایک شخص کی قربانی نظر آتی ہے مگر در حقیقت یہ قربانی نہیں بلکہ نیکی کا ایک بیج ہوتا ہے جس سے دوسرے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور خود بھی اسے فائدہ ہوتا ہے۔تو اخلاقی قربانیاں اور مذہب کی تعلیمیں نہایت ہی