خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 315

* 1942 315 خطبات محمود پڑتا ہے، اپنی جانوں کو ہر قسم کے خطرات میں ڈالنا پڑتا ہے مگر وہ برابر ان تکالیف میں چلے ا جاتے ہیں۔اس سے ہمیں یہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ مومنوں کی قربانیاں ان لوگوں کے مقابل پر کتنی وسیع ہونی چاہئیں۔اگر کا فرد نیوی اغراض کے لئے چار پانچ یا سات سال تک مسلسل اپنے آپ کو خطرات میں ڈال سکتے ہیں تو مومن مسلسل ستر سال تک بھی اپنے آپ کو خطرات میں ڈالتے جائیں تو کم ہے۔ہماری جماعت کے لئے یہ سوال اور بھی اہم ہے۔ہندوستانی استقلال کے ساتھ مسلسل کام نہیں کر سکتے۔بعض ڈاکٹر اسے ملیریا کا نتیجہ بتاتے ہیں کہ اس کے اثر کی وجہ سے انسان جلدی تھک جاتا ہے۔یہاں ایک ہی میدانِ جنگ میں لڑائی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔مگر یورپ کی لڑائیاں کتنی لمبی چلتی جاتی ہیں۔سالہا سال تک ایک لڑائی جاری رہتی ہے اور کسی کو یہ خیال تک نہیں آتا اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ اب چھ ماہ گزر گئے ہیں، اب سال گزر گیا ہے کہ ہمارے رشتہ دار میدان جنگ میں ہیں۔وہاں کھانے کی تکلیف ان کو برداشت کرنی پڑرہی ہے، کپڑے کافی نہیں مل سکتے، سفر میں متواتر رہنا پڑتا ہے اب لڑائی ختم ہونی چاہئے۔مگر ہمارے ملک کا طریق یہ ہے کہ چھ ماہ یا سال کے بعد لوگ گھبر اگر سست ہو جاتے ہیں۔میں نے خود اپنی جماعت میں دیکھا ہے۔بڑی قربانی کرنے والی جماعت ہے مگر بہت کم عہدہ دار ہیں جو چھ سات یا آٹھ دس سال تک متواتر محنت سے کام کرتے چلے جائیں۔ایک سیکر ٹری بڑا اچھا کام کرتا ہے مگر چار پانچ سال کے بعد ہی وہ تھکا ہوا معلوم ہونے لگتا ہے یہی امارت اور صدارت کا حال ہے۔ایک شخص امیر یا پریذیڈنٹ مقرر ہو کر بڑا اچھا کام کرتا ہے مگر 5، 7 سال کے بعد غفلت اور سستی شروع ہو جاتی ہے۔نہ معلوم یہ عادت کا نتیجہ ہے یا جیسا کہ بعض ڈاکٹروں کی رائے ہے ملیریا کا اثر ہے۔بہر حال ہمارے ملک میں استقلال کے ساتھ لمبے عرصہ تک قربانی کی عادت نہیں مگر ہماری جماعت کو سوچنا چاہئے کہ جن قوموں سے اس کا مقابلہ ہے ان میں یہ خوبی موجود ہے اور جب تک ہماری جماعت اس کمزوری کو دور نہ کرے کسی صورت میں وہ فتح اور غلبہ حاصل نہیں کر سکتی۔وہ دنیا پر کبھی غالب نہیں آسکتی جب تک کہ اس عادت کو درست نہ کرے اور