خطبات محمود (جلد 23) — Page 3
* 1942 3 خطبات محمود بہتر ہو گا۔پس جو شخص آپ کی اتباع کرنے والا اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والا ہو گا۔یہ قانون اس پر بھی حاوی ہو گا۔اور اس کے لئے ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے اور ہر آنے والا سال گزرے ہوئے سال سے اچھا ہو گا۔دنیا کے لوگ جب کوئی سال گزرتا ہے تو اس پر لعنتیں کرتے ہیں اور نئے سال کے آنے سے گھبراتے ہیں۔گزشتہ سال پر لعنتیں ڈالتے ہیں کہ وہ کیسی مشکلات اور مصائب کا سال تھا اور نئے سال سے گھبراتے ہیں کہ معلوم نہیں کیسا ہو۔لیکن مومن پچھلے سال پر بھی خوش ہوتا ہے کہ یہ اس کے رب کی طرف سے تھا اور آئندہ پر بھی مطمئن ہوتا ہے کہ یہ بھی اس کے رب کی طرف سے ہے اور اس کے رب کا وعدہ ہے کہ وہ پچھلے سے اچھا ہو گا۔مگر ایک بات یادرکھنی چاہئے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ اگلا سال پچھلے سال سے اچھا ہو گا۔وہاں مومن کا بھی فرض ہے کہ وہ نئے سال میں پچھلے سے زیادہ قربانیاں کرے کیونکہ اگر یہ سچ ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی علی کلم کے سچے متبع ہیں تو یہ بھی سچ ہے کہ ہمارا اگلا سال ضرور پچھلے سے بہتر ہو گا اور اگر یہ سچ ہے کہ ہمارا اگلا سال پچھلے سے بہتر ہو گا تو اس میں شبہ نہیں کہ ہمیں شکر بھی پہلے سے زیادہ کرنا چاہئے۔کیونکہ شکر ہمیشہ نعمت کے مطابق ہوتا ہے۔اگر نعمت کم ہے تو مانا پڑے گا کہ اس سال محمد رسول اللہ صلی علی کریم کے سچے متبع نہیں رہے اور اگر رہے ہیں تو نعمت زیادہ ہونی چاہئے اور نعمت زیادہ ہو تو شکر بھی زیادہ لازم ہے اور قربانیاں بھی گزشتہ سال سے زیادہ کرنی ضروری ہیں۔ہو سکتا ہے کہ کسی سال کسی پر ظاہری مشکلات اور تکالیف زیادہ ہوں۔ہو سکتا ہے کہ کوئی سال اس کا بیماری میں گزرا ہو اور اس سے پہلا نہ گزرا ہو۔کوئی سال مالی مشکلات میں گزرا ہو لیکن اس سے پہلا مالی لحاظ سے اس کے لئے اچھا ہو۔مگر قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ اگلی حالت پچھلی سے اچھی ہو گی ان ظاہری مشکلات کا اس سے تعلق نہیں۔یہ اس زندگی کے متعلق وعدہ ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور ہے۔اس سے مراد یہ چند سالہ زندگی نہیں بلکہ وہ ہے جو لاکھوں کروڑوں بلکہ ان گنت سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔اگر مومن کے لئے پہلے سال جنت میں ادنی سامان جمع کئے گئے تھے اور اگلے سال اس سے بہتر جمع ہوں تو یہ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ من الأولى ہو گا یا نہیں۔دراصل یہ دونوں زندگیاں مل کر ایک زندگی بنتی ہے۔جو لوگ اسی دنیا کی