خطبات محمود (جلد 23) — Page 209
* 1942 209 خطبات محمود دیکھتے ہی بھاگ گئیں۔آخر ایک لمبی گفتگو کے بعد یہ راز کھلا کہ دراصل ہندوستانی لباس پہنے کی وجہ سے انہیں ننگا قرار دیا گیا ہے۔مگر میں ولایت میں اسی لباس میں رہا۔ایک دن کچھ معززین مجھ سے ملنے کے لئے آئے جن میں سے ایک سر ڈینی سن راس تھے جو اور نٹیل کالج لنڈن کے پر نسپل تھے۔اب وہ فوت ہو چکے ہیں۔ہمارے سلسلہ سے ان کے نہایت اچھے تعلقات تھے اور وہ ایشیائی مضامین سے متعلق انگلستان میں اہم اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ان کے ساتھ کچھ اور پروفیسر ، علم دوست اصحاب اور ریلیجنس کا نفرنس کے سیکر ٹری وغیرہ بھی تھے۔باتوں باتوں میں میں نے ان سے لباس کا ذکر شروع کر دیا اور کہا کہ ہمارے ایک مبلغ مجھے مجبور کر رہے ہیں کہ میں اپنے لباس کو ترک کر دوں کیونکہ انگریز اسے بُرا سمجھتے ہیں اور میں اس بات پر اصرار کرتا ہوں کہ میں یہی لباس رکھوں گا۔آپ ہمارے دوست ہیں، آپ بے تکلفی سے بتائیں کہ آپ کے ملک پر ہمارے لباس کا کیا اثر پڑتا ہے اور لوگ اسے کیسا سمجھتے ہیں۔کچھ ہچکچاہٹ کے بعد انہوں نے کہا کہ ہاں بُر اتو سمجھتے ہیں۔میں نے کہا کیوں؟ کہنے لگے اس لئے کہ یہ لباس ہمارے ملک کا نہیں ہم لوگ جو ہندوستان کو دیکھ آئے ہیں۔اس لباس پر کسی قسم کا تعجب نہیں کرتے مگر باقی لوگ جنہوں نے ہندوستان کو نہیں دیکھا وہ اس لباس کو ایک عجیب سی چیز سمجھتے ہیں اور ایسے ہی دیکھتے ہیں جیسے کوئی تماشہ ہو تا ہے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ جب ہمارے ملک میں جاتے ہیں تو ہمیں بھی آپ کالباس تماشہ معلوم ہوتا ہے۔کیا آپ اپنا لباس چھوڑ کر ہمارا لباس پہنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا ہم تو نہیں کر سکتے۔میں نے کہا جب آپ ایسا نہیں کر سکتے تو آپ یہ امید کس طرح کر سکتے ہیں کہ ہندوستانی اپنے لباس کو چھوڑ دیں اور وہ یہاں آکر آپ کا لباس اختیار کر لیں۔کیا اس کی وجہ یہی نہیں کہ آپ چونکہ حاکم ہیں اس لئے آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم دوسرے ملک میں جا کر لوگوں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں مگر ان کا فرض ہے کہ وہ ہمارے ملک میں آکر ہمارے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں۔پھر میں نے ان سے کہا جب کوئی شخص ہندوستانی لباس کو ترک کر کے انگریزی لباس اختیار کر لیتا ہے تو کیا آپ کے دل کے اندرونی گوشوں میں یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ ایک شکست خوردہ اور ذلیل شکار ہے۔ہنس کر کہنے لگے ہم سمجھتے تو یہی ہیں