خطبات محمود (جلد 23) — Page 199
* 1942 199 خطبات محمود مگر جہاں اور دس بیس یا سو کی حکمت سمجھ میں آتی ہے وہاں اگر ایک آدھ کی نہ آئے تو اسے بھی ان پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔اگر کوئی شخص ہمیں سو علمی باتیں سکھاتا ہے تو اگر اس کی بتائی ہوئی کسی ایک بات کی ہمیں سمجھ نہ آئے تو ہم اسے بھی مان لیں گے۔اگر کوئی کسی پر دو احسان کرے تو وہ اس کی تیسری بُری بات کو بھی برداشت کرنا ضروری سمجھتا ہے بلکہ کسی شریف آدمی پر تو اگر کوئی ایک احسان بھی کرے تو وہ اس کی تین بُری باتیں سننا بھی اپنا فرض سمجھتا ہے۔تو ایسا محسن جس کی سینکڑوں باتوں کی حکمت اور فائدے کو ہم سمجھتے ہیں۔اس کی کوئی ایک دو باتیں اگر نہ بھی سمجھ میں آئیں تو کوئی حرج نہیں اتنے احسانات کے بعد ہمیں یہ جرات کیسے ہو سکتی ہے کہ سوال کریں اس کی حکمت کیا ہے؟ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب مکہ والوں کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ آپس میں سمجھوتہ ہو جائے تو آنحضرت صلی یم نے فرمایا کہ اچھا ہے اگر سمجھوتہ ہو جائے۔مکہ والوں نے ایک شخص کو اپنی طرف سے شرائط طے کرنے کے لئے آپ کے پاس بھیجا جس کے لوگوں پر بہت احسانات تھے حتی کہ وہ اپنے آپ کو عرب کا باپ کہتا تھا۔وہ آیا اور باتیں کرنے لگا۔وہ بہت ہوشیار اور تجربہ کار آدمی تھا اور چاہتا تھا کہ میں ایسے رنگ میں صلح کراؤں کہ میری قوم کی عزت رہ جائے اور لوگ میری ہوشیاری کی تعریف کریں۔چنانچہ وہ کہنے لگا کہ دیکھو بچہ ! میں بڑا آدمی ہوں، بوڑھا ہوں، میرے عقل اور تجربہ کی قدر کریں۔یہ لوگ جو آپ کے گرد جمع ہیں یہ قابل اعتبار نہیں ہیں بلکہ کوئی کہیں کا اور کوئی کہیں کا ہے۔ان پر اعتماد کر کے اپنی قوم سے نہ بگاڑو۔اگر آج ایسی شرائط طے ہوئیں جن میں اہل مکہ کی ہتک ہو تو یہ گویا تمہاری ہتک ہو گی۔کل کو اگر تم نے اپنی قومی عزت سے فائدہ اٹھانا چاہا تو نہ اٹھا سکو گے۔وہ دنیا دار آدمی تھا اور سمجھتا تھا کہ آنحضرت صلی ال نیم کے کام کی بنیاد بھی دنیا داری پر ہی ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو جو برکات حاصل تھیں ان کا اسے کوئی علم نہ تھا۔باتیں کرتے کرتے اس نے آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگایا اور کہا کہ قوم کی عزت رکھ لو۔ہمارے ملک میں یہ بھی رواج ہے کہ کہتے ہیں میں تمہاری داڑھی کو ہاتھ لگاتا ہوں۔یہ بات مان لو۔اسی طرح اس نے بھی آنحضرت صلی علیم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگایا لیکن ایک صحابی نے اپنے تلوار کے دستے سے