خطبات محمود (جلد 23) — Page 182
* 1942 182 خطبات محمود تجارتوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اس طرح ظلم تو کرتی ہیں مگر یہ سیاسی ظلم ہیں جو ایک حد تک برداشت کئے جاسکتے ہیں اور اس طرح دوسری قوم کو کمزور کرنے میں سینکڑوں سال لگ جاتے ہیں مگر ڈا کو اس طرح نہیں کرتے۔وہ تو ایک ہی دن میں مال لوٹ لیتے ، جانیں ضائع کر دیتے اور گھر بار جلا دیتے ہیں لیکن جو قومیں سیاسی قبضہ کرتی ہیں وہ سینکڑوں سالوں میں جا کر دوسری قوم کو کمزور کرتی ہیں۔انگریز ہندوستان میں قریباً تین سو سال سے ہیں لیکن آج بھی یہاں لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔اپنی زمینوں اور جائدادوں کے مالک ہیں۔مگر ہمارے ملک کی ذہنیت ڈاکوؤں والی ہے اور یہ ذہنیت خطرات کو بہت بڑھا دیتی ہے۔ایک طرف تو انگریزوں کے خلاف جذ بہ نفرت پیدا کیا جارہا ہے، پیدا ہو گیا ہے اور پیدا ہو تا جائے گا۔حکومت کو یا تو پتہ نہیں اور یا پھر وہ مصلحتاً خاموش ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک دوسری قوم کے خلاف بھی لوگوں کو اکسایا جارہا ہے۔کہیں کہا جاتا ہے کہ یہ سکھوں کا ملک ہے، کہیں کہا جاتا ہے ہندوؤں کا ہے۔چوری چوری ہتھیار جمع کئے جارہے ہیں، ایمو نمیشن اکٹھا کیا جارہا ہے، تیز اب فراہم کیا جاتا ہے اور یہ ذہنیت مقامی طور پر بہت بڑی بربادی کا موجب ہو سکتی ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ ایک گاندھی نہیں اگر دس کروڑ گاندھی ہوں بلکہ ہندوستان کی آبادی چالیس کروڑ بتائی جاتی ہے اگر 40 کروڑ گاندھی بن جائیں لیکن ذہنیت یہی ہو جو اس وقت ہے تو چالیس کروڑ گاندھی مل کر بھی انگریزوں کو یا کسی دوسری قوم کو ہندوستان سے نہیں نکال سکتے۔جس قوم کی ذہنیت غلام ہو وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتی۔جو قوم اندرونی نظم و نسق کو درست نہیں کر سکتی وہ دوسرے کے مقابل پر کبھی کھڑی نہیں ہو سکتی اور بھلا کون معقول آدمی تسلیم کرے گا کہ جو قومیں پیپل کی ٹہنیوں پر لڑتی ہیں، جو تعزیوں پر اور گائے کی قربانی کے لئے لڑتی ہیں وہ ایک دوسری سے حکومت لینے یا ملک حاصل کرنے کے لئے نہ لڑیں گی۔یہ تو محض بہانہ ہے کہ انگریز لڑاتے ہیں اور یہ لڑائیاں اس وجہ سے ہیں کہ انگریز یہاں ہیں۔یہ عقائد انگریزوں نے تو نہیں بنائے۔گائے کی قربانی یا حرمت کے عقائد ان کے بنائے ہوئے نہیں۔اسلام میں سینکڑوں سالوں سے اس کی اجازت چلی آتی ہے اور ہندوؤں کے اندر بھی سینکڑوں سالوں سے اس کی حرمت کا عقیدہ چلا آتا ہے۔انگریزوں سے پہلے بھی یہاں تعزیے نکتے تھے ، گھوڑا نکلتا تھا، ہولی انگریزوں سے