خطبات محمود (جلد 23) — Page 183
* 1942 183 خطبات محمود پہلے بھی ہوتی تھی اور ان سے پہلے بھی ایک دوسرے پر رنگ پھینکا جاتا تھا۔یہ باتیں انگریزوں نے پیدا نہیں کیں اور گو یہ باتیں نامناسب ہیں لیکن اگر ہر شخص اور ہر قوم یہ سمجھے کہ دوسرے کے معاملات میں دخل نہیں دینا تو کوئی جھگڑا پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔اگر ہندو ایک دوسرے پر رنگ پھینکنا چاہیں تو کسی کا حق نہیں کہ انہیں روکے بلکہ اگر کوئی اپنے اوپر نیل کا مٹکا بھی گرانا چاہے تو کسی کو روکنے کا حق نہیں۔لیکن اگر کوئی مسلمان اسے ناپسند کرتا ہے اور اس میں اپنی ذلت سمجھتا ہے تو اس پر کیوں پھینکا جائے۔اب ان باتوں میں انگریزوں کا کیا دخل ہے۔انہوں نے تو یہ تعلیم نہیں دی اور نہ یہ عقائد پھیلائے ہیں یا کوئی مسلمان اپنے گھر میں گائے کی قربانی کرتا ہے ، بازاروں میں اس کا گوشت لئے نہیں پھر تا اور ہندوؤں کو نہیں دھمکاتا تو اس میں ہندوؤں کا کیا نقصان ہے یا ہندو دسہرہ مناتے ہیں تو اس میں مسلمانوں کا کیا نقصان ہے۔ہند و باجا بجاتے ہیں گو اس سے نماز کا وقت ہو تو ایک حد تک نماز میں حرج ہوتا ہے لیکن اگر ہند و مسلمانوں کے کاموں میں دخل نہ دیں تو باجا پر ان کو اعتراض کی ضرورت نہیں۔جتنا زیادہ مسلمان اس سے چڑتے ہیں اتنا ہی وہ اور بجاتے ہیں۔یہاں بھی بعض اوقات ہندو باجا بجاتے ہیں مگر ہم نہیں روکتے اور مسجد میں بھی کبھی اتنا شور ہم نے نہیں سنا۔اگر دوسرے مسلمان بھی اس پر بُرا نہ منائیں تو ہند و خود بخود چھوڑ دیں۔وہ سمجھیں گے کہ مسلمان تو اس سے چڑتے نہیں یہ خوامخواہ اپنے ڈھول پھاڑنے والی بات ہے۔تو اگر آپس میں محبت اور پیار کا طریق جاری ہو تو ان چیزوں کا خود بخود علاج ہو سکتا ہے۔یہ جھگڑے صرف اس وجہ سے ہیں کہ اس بات پر اصرار کیا جاتا ہے کہ دوسرے سے بھی وہی کرائیں جو خود کرتے ہیں اور یہ باتیں انگریزوں نے پیدا نہیں کیں۔دوسرے کے ذمہ اتنا ہی قصور لگانا چاہئے جتنا اس سے سرزد ہو اور ہمیشہ سچائی کو دیکھنا چاہئے اور سچائی کے پیچھے چلنا چاہئے۔ان باتوں نے ملک کے امن و چین کو بگاڑ دیا ہے اور اسی وجہ سے میں دوستوں کو دعا کی تحریک کرتارہتاہوں اور خود بھی دعائیں کرتارہتا ہوں۔پرسوں کی بات ہے کہ میں اسی طرح دعا کر رہا تھا۔میرے دل میں خیال آیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہو جائے تو اطمینان ہو۔ہماری تو 32 دانتوں میں زبان کی سی حالت ہے۔ہم مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں مگر وہ ہمارے دشمن ہیں، ہم ہندوؤں کے خیر خواہ ہیں