خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 176

خطبات محمود غلہ مل سکتا تھا۔176 $1942 پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ یہ طریق درست نہیں۔آپ لوگوں نے نظام کی خوبیاں دیکھی ہوئی ہیں۔اس نظام کو اپنے تمام کاموں میں وسیع کرو اور بجائے اس کے کہ گھبر ائے گھبر ائے اِدھر اُدھر پھرو، کمیٹیاں بنا لو اور باہمی مشورہ اور انتظام سے غلہ خریدو۔اگر تم ذرا صبر سے کام لو گے تو گندم کی قیمت گر جائے گی۔اس وقت جو اس کی قیمت چڑھی ہوئی ہے یہ بالکل عارضی ہے۔اتنی قیمت ہر گز نہیں ہونی چاہئے۔میں سمجھتا ہوں اگر اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے اور جیسا کہ گورنمنٹ کوشش کر رہی ہے ستمبر اکتوبر میں مکی، باجرہ اور چاولوں کی کثرت ہو جائے تو گندم کی قیمت یکدم گرنے کا احتمال ہے۔اس وقت زمیندار گندم کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے اور چاول یا باجرہ یا مکی پر گزارہ کر کے گندم کو سستے بھاؤ فروخت کر دیں گے۔جو لوگ غلہ خرید رہے ہیں انہیں یہ امر بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ تکلیف کے وقت ایک ہی قسم کی غذا پر اصرار نہیں کیا جاسکتا۔پس وہ صرف گندم پر ہی اکتفاء نہ کریں بلکہ چاول وغیرہ بھی خرید لیں۔اس طرح گندم کا خرچ بھی کم ہو گا اور ان کی صحتوں کو بھی کوئی نقصان نہیں ہو گا۔اگر دوست میری اس نصیحت پر عمل کریں گے تو مجھے امید ہے کہ گندم کے جو بھاؤ اس وقت بڑھے ہوئے ہیں وہ گر جائیں گے کیونکہ گندم کی اتنی کمی نہیں جتنا ڈر کی وجہ سے خطرہ پید اہو گیا ہے۔ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ تکلیف کا سال کے آخری مہینوں میں خطرہ ہے اور اس کے لئے بھی ابھی سے غلے کا ذخیرہ کر لینا چاہئے۔“ (الفضل 30 مئی 1942ء) 1: بخاری کتاب الصلوة باب الْمَرْأَة تَطْرَحُ عَنِ الْمُصَلَّى (الخ) 2: کھتہ : کھیت کی تخفیف 3: مقاطعہ : ٹھیکہ ، اجاره :4 وَالَّذِينَ تَبَوَّةُ الدَّارَ وَالإِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر: 10) 5: الكهف : 111