خطبات محمود (جلد 23) — Page 160
* 1942 160 خطبات محمود پھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی ذلت کا یہیں پر خاتمہ نہیں ہوا بلکہ جب وہ بیان دے کر کمرہ سے باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک کرسی پڑی ہوئی تھی اس کرسی پر وہ بیٹھ گئے تاکہ کم از کم باہر کے لوگ جب انہیں بر آمدہ میں کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھیں تو یہ خیال کر لیں کہ اندر بھی انہیں کرسی ملی ہو گی مگر خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ حاکم کے اثر کے نیچے اس کے ماتحت بھی ہوتے ہیں۔عدالت کا چپڑاسی جو کمرہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا حال دیکھ چکا تھا اور جسے معلوم تھا کہ صاحب ان پر سخت ناراض ہوئے ہیں اس نے جب دیکھا کہ وہ باہر بر آمدہ میں کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں تو وہ ڈرا کہ کہیں صاحب مجھ پر ناراض نہ ہو جائیں چنانچہ وہ دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا مولوی صاحب کرسی چھوڑیئے۔آپ کو یہاں بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔چنانچہ مولوی صاحب با دلِ ناخواستہ وہاں سے اٹھے اور باہر آئے جہاں لوگوں کا بہت سا ہجوم تھا اور خیال کیا کہ ان کو تو میری ذلت کا علم نہیں یہیں کوئی بیٹھنے کے لئے اچھی سی جگہ مل جائے تو بیٹھ جاؤں۔چنانچہ وہاں زمین پر کسی نے اپنی چادر بچھائی ہوئی تھی۔مولوی صاحب اسی چادر پر بیٹھ گئے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ پبلک میں انہیں اعزاز حاصل ہے مگر چادر کا مالک دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا میری چادر چھوڑ دو۔تم عیسائیوں کی طرف سے ایک مسلمان کے خلاف گواہی دینے کے لئے آئے ہو تم نے تو میری چادر پلید کر دی ہے۔آخر مولوی صاحب کو وہاں سے بھی نہایت ذلت کے ساتھ اٹھنا پڑا۔اب دیکھو یہ کیسا ایک سلسلہ ہے اس ذلت کا جو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو پہنچی اور کیسی غیر معمولی عزت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حاصل ہوئی مگر یہ ایک الہی تصرف تھا۔مجھے ان کے جو سر رشتہ دار تھے۔انہوں نے بعد میں خود سنایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے مقدمہ کی پیشی سے فارغ ہو کر ڈپٹی کمشنر سٹیشن پر پہنچا تو بٹالہ سٹیشن پر نہایت اضطراب کے ساتھ ٹہلنے لگ گیا۔وہ کہتے ہیں تھوڑی دیر تو میں دیکھتا رہا آخر میں نے آگے بڑھ کر کہا کہ صاحب وٹینگ روم میں کرسی پر تشریف رکھئے۔ٹہلنے کی کیا ضرورت ہے۔وہ کہنے لگا نہیں۔میں اس وقت کرسی پر نہیں بیٹھ سکتا اور پھر ٹہلنے لگ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے پھر کہا کہ صاحب آپ کو تکلیف ہو گی، دھوپ کا وقت ہے آپ