خطبات محمود (جلد 23) — Page 130
* 1942 130 خطبات محمود کوئی مکان والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میر امکان ہے جس کرایہ پر چاہوں دوں، بلکہ ہمیں معقولیت کے ساتھ دیکھنا ہو گا کہ کس حد تک اور کس صورت میں کرایہ بڑھانے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ایک اور ناجائز پہلو بھی میرے علم میں آیا ہے کہ بعض بہانے سے چابیاں منگواتے ہیں مثلا یہ کہہ کر کہ صفائی کرانی ہے یا سفیدی کرانی ہے اور اس طرح مکان پر قبضہ کر کے دوسرے کو زیادہ کرایہ پر دے دیتے ہیں۔یہ نہایت ہی ناجائز بات ہے اور بد دیانتی ہے۔جہاں ہم اس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ کہاں تک جائز طور پر مکان والوں کو اپنے لگائے ہوئے روپیہ سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے۔وہاں اس جھوٹ اور بد دیانتی کو کبھی گوارا نہیں کر سکتے جو کسی مذہبی جماعت میں جائز نہیں۔پس جہاں تک اس پہلو کا تعلق ہے۔میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ بد دیانتی ہے۔جس کے ساتھ ایسا دھوکا کیا جائے وہ فوراً امور عامہ میں رپورٹ کرے اور ایسے شخص کے ساتھ نظام کے ماتحت ہم وہی معاملہ کریں گے جو بد دیانت اور خائن سے کرتے ہیں۔پس جن لوگوں کو یہ شکایت ہو کہ ان کے ساتھ اس طرح کی بد دیانتی کی گئی ہے میں ان کو اطلاع دیتا ہوں کہ ان کو حق ہے کہ فوراً امور عامہ میں رپورٹ کریں اور میں امور عامہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ ایک الگ افسر مقرر کرے جس کا کام ان دنوں میں ایسے جھگڑوں کی تحقیقات ہو مگر جیسا کہ میں نے بارہا کہا ہے امور عامہ کو کسی کو سزا دینے کا کوئی حق نہیں سوائے اس کے کہ انتظامی پہلو کی سزا ہو۔اس لئے ایسے معاملات قضاء میں پیش ہوں اور اگر قاضیوں کی موجودہ تعداد کافی نہ ہو تو ان معاملات کے لئے مزید قاضی مقرر کئے جاسکتے ہیں جنہیں یہ حکم ہو کہ وہ تین دن کے اندر اندر ایسے معاملہ کا فیصلہ کر دیں۔پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر کسی نے کسی سے وعدہ کیا اور پھر بغیر کسی شرعی اور قانونی حق کے اسے مکان نہیں دیا یا دھوکا دے کر چابیاں لے لیں تو وہ فوراً امور عامہ میں رپورٹ کرے جہاں اس کی حق رسی کی جائے گی۔مگر اس سوال کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے باہر سے آنے والوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ یہاں مکان بناتے ہیں وہ برکت کے لئے اور اخلاص کے ماتحت بناتے ہیں۔کسی پر پانچ ہزار، کسی پر دس ہزار روپیہ خرچ آتا ہے بلکہ بعض مکانوں پر تو ہیں بیس ہزار روپیہ بھی خرچ آیا ہے۔ہندوستان میں عام دستور کے ماتحت چھ روپیہ فیصدی