خطبات محمود (جلد 23) — Page 75
$1942 75 خطبات محمود جرات سے حاصل ہوتی ہے اور یہ جرات نہ انگریز پیدا کر سکتے ہیں اور نہ کا نگر سی پیدا کر سکتے ہیں۔انگریزوں کے ماتحت ہی ہندوستان میں کئی بزدل قو میں ہیں مگر انگریز ان کو بہادر نہیں بنا سکے۔صرف اتنا کہہ دیا کہ انہیں فوج میں بھرتی نہ کیا جائے۔گویا بجائے اس کے کہ وہ ان کی ترقی کا باعث بنتے۔انہوں نے ان کو اسی بزدلی کے گڑھے میں گرائے رکھا جس میں وہ پہلے گرے ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھو۔اس کے ساتھ تعلق رکھنے سے بڑے بڑے بز دل بہادر بن جاتے ہیں اور بڑی بڑی غیر منظم قو میں منظم ہو جاتی ہیں۔آجکل لوگ جرمنی کی مثال دیتے ہیں کہ اس کی تنظیم حیرت انگیز ہے حالانکہ جرمنی پہلے ہی منظم تھا۔وہ آزاد قوم تھی اس کی حکومت اپنی تھی۔سامان اس کے پاس موجود تھا اور دنیا کی حاکم قوموں میں سے سمجھی جاتی تھی۔اگر اس نے ان سامانوں سے کام لے کر اپنی تنظیم کو زیادہ بہتر بنالیا۔تو یہ معمولی بات ہے۔یہی حال اٹلی اور جاپان کا ہے۔لیکن خدا جن قوموں کو ترقی دیتا ہے ان کی کا یا پلٹ کر رکھ دیتا ہے اور ان کے دل بالکل بدل جاتے ہیں۔ان کی کمزوری اور بزدلی جاتی رہتی ہے اور ان کے اندر ایسی طاقت اور قوت آجاتی ہے کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔مسلمانوں کو ہی دیکھ لو عرب ایک ایسا ملک تھا جس کے باشندے کسی ایک بادشاہ کے ماتحت رہنا اور باقاعدہ کسی نظام کے ماتحت آنا گوارا نہیں کیا کرتے تھے بلکہ قبائل کے سردار عوام سے مشورہ لے کر کام کرتے تھے اور ہر قبیلہ اپنی اپنی جگہ آزاد سمجھا جاتا تھا مگر ان کی اتنی حیثیت بھی نہ تھی۔جتنی آجکل چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی ہوتی ہے۔کوئی قبیلہ ہزار افراد پر مشتمل تھا، کوئی قبیلہ دو ہزار افراد پر مشتمل تھا، کوئی قبیلہ تین ہزار افراد پر مشتمل تھا۔گویا آجکل جو چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں ان سے بھی وہ قبائل بہت چھوٹے تھے۔مکہ کی آبادی بھی اُس وقت صرف دس پندرہ ہزار تھی پھر ان میں کوئی نظام نہ تھا، ان کے پاس کوئی خزانہ نہ تھا، کوئی سپاہی نہ تھا، کوئی ایسا محکمہ نہ تھا جس کے ماتحت با قاعدہ فوجیں رکھی جاتی ہوں اور سپاہی بھرتی کئے جاتے ہوں۔صرف کام کے متفرق شعبے ایک دوسرے میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔غرض وہ ایک ایسی قوم تھی جو بالکل بے راہ رو تھی، کوئی طریقہ اور کوئی صحیح نظام ان