خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 7

خطبات محمود 7 * 1942 20، دسمبر سے چونکہ دوست اور احباب قادیان آنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں اور کئی لوگ تو اس سے پہلے ہی قادیان آجاتے ہیں اور چونکہ قریباً تمام جماعتوں کے کارکن جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے ہوتے ہیں۔اس لئے لازمی طور پر دسمبر کا آخری ہفتہ اور جنوری کا پہلا ہفتہ اس کام کے لحاظ سے بالکل خالی ہوتا ہے۔کیونکہ واپس جانے والے دوست متفرق اوقات میں واپس جاتے ہیں۔اور پھر کچھ دن آرام میں گزر جاتے ہیں۔اس طرح سات آٹھ جنوری تک وہ صحیح رنگ میں کوئی کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔بہر حال اب چونکہ وہ آرام کا وقت گزر گیا ہے۔اور صرف تین ہفتے ہندوستان کے دوستوں کے وعدوں کی میعاد میں باقی رہ گئے ہیں جن میں کارکنوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے ہر فرد تک پہنچنا ہے۔ان سے وعدے لکھوانے ہیں۔جو لوگ فوری طور پر چندہ ادا کر سکتے ہوں ان سے چندے وصول کرنے ہیں۔اور اس امر کو بھی مد نظر رکھنا ہے کہ دوستوں نے گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں نمایاں اضافے کے ساتھ وعدے کئے ہیں یا نہیں۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ آج پھر احباب جماعت کو اس چندہ میں شمولیت اور اس تحریک کی اہمیت کی طرف توجہ دلا دوں۔تحریک جدید کے چندہ کی اہمیت کے متعلق میں نے جلسہ سالانہ پر بھی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی اور اس سے پہلے جب میں نے اس سال کی تحریک کا اعلان کیا تھا تو اُس وقت بھی دوستوں کو اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اب مجھے اس چندہ کی اہمیت کے متعلق کچھ مزید کہنے کی ضرورت نہیں۔تاہم میں اس قدر کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے متواتر خطبات سے جماعت کے دوست اچھی طرح سمجھ چکے ہوں گے کہ یہ تحریک کس نیت سے کی گئی ہے اور ہمارا ارادہ اس سے کتنا عظیم الشان کام لینے کا ہے۔نتائج اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔اور وہی بہتر جانتا ہے کہ اس تحریک کے کیا نتائج رونما ہوں گے لیکن بہر حال ہم نے اس تحریک سے اشاعت دین کے لئے ایک عظیم الشان بنیاد رکھنے کی نیت کی ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ مومن صرف نیت تک ہی اپنے کام کی حفاظت کر سکتا ہے۔نیت کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت سے ہوتا ہے۔گو اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ نیت صالح بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پیدا ہوتی ہے۔مگر پھر بھی