خطبات محمود (جلد 23) — Page 64
* 1942 64 خطبات محمود ایک دن جنگل میں سے گزر رہا تھا کہ اسے ایک تھیلی زمین پر پڑی ہوئی نظر آئی۔اس نے سمجھا کہ تھیلی میں مکی کے دانے ہیں۔چنانچہ وہ نہایت شوق سے اس کی طرف لپکا اور اسے اٹھا کر کھولنے لگا مگر جب اس نے کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ تھیلی میں دانے نہیں بلکہ موتی ہیں۔اس نے نہایت غصے سے تھیلی کو زمین پر دے مارا اور پھر آگے چل پڑا۔یہ مثال شیخ سعدی نے یہ بتانے کے لئے لکھی ہے کہ بھوک کے وقت موتی کی بھی کوئی قیمت نہیں ہوتی اس وقت سب سے مقدم چیز انسان کو پیٹ بھرنا نظر آتی ہے اور واقعہ یہی ہے کہ پیٹ بھر ا ہو ا ہو تبھی انسان دشمن سے لڑ سکتا ہے۔اپنی جان و مال اور دوسروں کی جان ومال کی حفاظت کر سکتا ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتا ہے لیکن اگر فاقہ سے ہو تو نہ وہ اپنی مدد کر سکتا ہے اور نہ دوسروں کی مدد کر سکتا ہے۔روزوں میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہی مشق کراتا ہے۔چنانچہ روزوں کے ذریعہ ہم ہر سال اپنی زندگی میں ایسا وقت لاتے ہیں۔جب ہم خدا کے لئے فاقہ کرتے ہیں اور ہم میں نہ صرف خود فاقہ برداشت کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے بلکہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ فاقہ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔جب بارہ گھنٹے کا فاقہ اتنی تکلیف کا موجب ہوتا ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ جن لوگوں کو اس سے زیادہ فاقہ برداشت کرنا پڑے انہیں کتنی تکلیف ہوتی ہو گی۔آجکل بہت سی ریلیں لڑائی کے کاموں کے لئے رکی ہوئی ہیں لیکن فرض کرو جنگ بڑھ جائے اور گورنمنٹ حکم دے دے کہ سوائے جنگ کی ضروریات کے اور کسی کام کے لئے ریلیں نہیں چلائی جائیں گی۔تو وہ ایسا کر سکتی ہے۔موٹریں پہلے ہی رکی ہوئی ہیں۔اس کے بعد فرض کرو۔گورنمنٹ چھکڑوں اور گڑوں کو بھی اپنے مصرف میں لے آئے تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکے گا۔یہ گورنمنٹ کا حق ہے کہ اگر وہ ضروری سمجھے تو ریلوں پر قبضہ کرلے۔چھکڑوں اور گڑوں کو بھی لے لے۔ایسی حالت میں تم سمجھ سکتے ہو کہ دس پندرہ میل سے بھی غلہ لانا مشکل ہو گا لیکن اگر غلہ تمہارے گھروں میں ہو گا تو تم ان تکلیفوں کے باوجود اپنا گزارہ کر سکو گے۔پس وقت کی ضرورت کو سمجھو اور جیسے مومن کو عظمند اور ہوشیار ہونا چاہئے۔ویسے ہی تم عظمند اور ہوشیار بنو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں حوادث آتے رہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ان حوادث کی تکالیف کو کم کرنے کا ذریعہ بھی بتلا دیا ہے۔جیسا کہ میں نے بتلایا