خطبات محمود (جلد 23) — Page 53
خطبات محمود 53 * 1942 میں سے ہر ایک کی خاطر اپنے آپ کو آگ کے سامنے کھڑا کر دیا تا کہ خدا کے سامنے ہم بری ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کہے کہ اس جماعت نے تبلیغ کے کام کو جاری رکھا تھا۔اگر وہ لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش نہ کرتے ، اگر وہ لوگ اپنا وطن چھوڑ کر غیر ممالک میں تبلیغ کے لئے نہ جاتے، اگر وہ لوگ اپنی بیوی اور اپنے بچوں کی قربانی نہ کرتے یا اگر وہ لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش کر کے دنیا کی دشمنی مول نہ لیتے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہی مجرم نہ ہوتے بلکہ ہم بھی ہوتے اور خد اتعالیٰ کہتا کہ جماعتی طور پر تم نے تبلیغ میں کو تاہی سے کام لیا ہے۔مگر ان کے تبلیغ پر چلے جانے کی وجہ سے وہی بری الذمہ نہیں ہو گئے بلکہ ہم بھی بری الذمہ ہو گئے ہیں اور اس تبلیغ کا ثواب صرف انہیں ہی نہیں ملتا بلکہ ہمیں بھی ملتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ سمجھتا ہے کہ تمام جماعت تبلیغ کا فرض ادا کر رہی ہے۔گویا جب خدا کے حضور خوشنودی کا وقت آیا تو تم آگے بڑھے اور تم نے کہا کہ خدایا یہ ہمارا بھائی تھا اور خدا نے تمہارے اس عذر کو قبول کر لیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ جس جس جگہ مبلغ گیا ہے۔اس جگہ کے متعلق یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ وہاں صرف ایک مبلغ گیا ہے بلکہ یہ سمجھا جائے گا کہ وہاں ساری جماعت گئی ہے اور صرف اسے ہی ثواب نہیں ملے گا بلکہ ساری جماعت کو تبلیغ کا ثواب دیا جائے گا لیکن جب وہ مبلغ مصیبتوں میں مبتلا ہوئے، قید و بند کی تکلیفوں میں ڈالے گئے اور انہیں جانی اور مالی نقصان پہنچا۔تو اگر ان مصیبتوں میں تمہاری بھی کسی بے پروائی کا دخل ہوا تو تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ انعام کے لئے تو ان مبلغوں کے ساتھ تمہارا نام لکھ دیا جائے گا مگر سزا کے لئے تمہارا نام نہیں لکھا جائے گا یا تو تمہیں یہ پوزیشن قبول کرنی چاہئے کہ ہم خدا کے مجرم ہیں۔ہم نے تبلیغ نہیں کی اور اگر تم اس پوزیشن کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔اور تم سمجھتے ہو کہ جب کوئی مبلغ تبلیغ کرتا ہے تو در حقیقت وہ تمہارا کام کرتا ہے اور تم اس کے ثواب میں شریک ہو تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ جب وہ مبلغ تمہاری کسی غفلت اور کو تاہی کی وجہ سے قید و بند کی تکالیف میں مبتلا ہوتا ہے اور اس طرح تبلیغ کے راستہ میں روک پیدا ہو جاتی ہے تو سزا کے بھی تم ہی مستحق ہو۔اسی طرح وہ تمام لوگ جو انگریزوں کی شکست پر خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اچھا ہوا انگریزوں کو خوب سزا مل رہی ہے۔میں کس طرح مان لوں کہ وہ دعاؤں میں ہمارے ساتھ