خطبات محمود (جلد 23) — Page 54
* 1942 54 خطبات محمود شریک ہوا کرتے تھے یقینا وہ دعاؤں میں شریک نہیں ہوا کرتے تھے اور یقیناً وہ دعاؤں میں شریک نہیں ہو سکتے تھے اور اگر وہ دعا کرتے بھی تھے تو منافقت سے کام لیتے تھے اور یقیناً خدا ان کی دعا ان کے منہ پر مارتا ہو گا کہ ادھر تو تم انگریزوں کی شکست پر خوش ہوتے ہو اور ادھر کہتے ہو کہ تمہارے مبلغ اور جماعت کے دوسرے افراد بچ جائیں۔پس ان تمام احمدیوں کی تکلیف کا موجب در حقیقت وہی لوگ ہیں جنہوں نے دعاؤں میں کو تاہی سے کام لیا۔فرض کرو خدا نے سو آدمیوں کی متفقہ دعا قبول کرنی تھی۔جن میں سے نوے آدمیوں نے تو دعا کی مگر دس نے غفلت کی یا ایسی حالت میں دعا کی جب کہ ان کا دل اس دعا کے خلاف تھا تو ایسی حالت میں سو آدمیوں کی دعا سے جو نتیجہ نکلنا چاہئے تھا وہ نہیں نکلے گا اور محض دس آدمیوں کی غفلت کی وجہ سے سب لوگ تکلیف میں مبتلا ہو جائیں گے۔آخر تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ آگ تو جلے مگر تم اس آگ میں نہ جلو۔یہ عقل کے بالکل خلاف ہے اگر آگ لگے گی تو تم کو بھی لگے گی۔اور اگر دنیا میں تباہی و بربادی آئے گی تو وہ تباہی و بربادی تم پر بھی اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہے گی۔یہ خدا کا قانون نہیں ہے کہ عام عذاب کے وقت چن چن کر کسی جماعت کے تمام افراد کو بچالے پس میں سمجھتا ہوں کہ وہ تمام لوگ جو ایسے مواقع پر خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے یا عدم دلچسپی ظاہر کیا کرتے تھے۔ان مشکلات اور تباہیوں کی وجہ سے جو ہماری جماعت کے سینکڑوں آدمیوں اور مبلغوں پر بھی اثر انداز ہوئی ہیں۔خدا کے سامنے مجرم ہیں اور ان کی قیدوں اور تکلیفوں کے وہی لوگ ذمہ دار ہیں۔اب میں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلا تا ہوں کہ یہ فتنہ ہندوستان کے اور زیادہ قریب پہنچ گیا ہے۔پہلے صرف وہی مبلغ اس کی زد میں تھے جو باہر گئے ہوئے تھے اور پہلے صرف وہی سپاہی اس کی زد میں تھے جو ہندوستان سے باہر تھے مگر اب تم میں سے ہر شخص اس کی زد میں ہے۔جو حکومت کسی جگہ دیر سے قائم ہوتی ہے وہ بھی بعض دفعہ سختی کرتی ہے جیسے آجکل لوگوں کو شکوہ ہے کہ حکومت فوجیوں کے لئے غلہ ہندوستان سے باہر لے گئی ہے حالانکہ باہر جانے والے سپاہی ہمارے ہی آدمی ہیں۔اگر وہ ہمارے ملک میں ہوتے تو کیا وہ غلہ نہ کھاتے۔اگر وہ یہاں ہوتے تو انہوں نے یہاں بھی غلہ استعمال کرنا تھا۔