خطبات محمود (جلد 23) — Page 518
* 1942 518 خطبات محمود بعینہ یہی الفاظ اس اخبار نویس نے لکھے ہیں۔بعض راویوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے لاہور کا نام لیا اور فرمایا مثلا لا ہور ہے۔2 لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ لاہور شہر ہے بلکہ یہ کہیں گے لاہور جو کبھی شہر ہوا کرتا تھا۔کولون لا ہور سے بڑا ہی ہے چھوٹا نہیں مگر وہ اخبار نویس لکھتا ہے کولون اب ایسی حالت میں ہے کہ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کولون ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ کولون جو کبھی شہر ہوا کرتا تھا حالانکہ اس پر صرف چند گھنٹے بمباری ہوئی تھی مگر چند گھنٹوں میں ہی وہ شہر مٹی کا ڈھیر بن گیا۔تم جانتے ہو کہ اگر ایک گولی بھی کہیں سے گزر جاتی ہے تو کس طرح سن سن کی آواز اس سے پیدا ہوتی ہے حالانکہ وہ صرف اڑھائی تین تولے کی ہوتی ہے لیکن اس جنگ میں سوا سوالا کھ من بارود بعض دفعہ چند گھنٹوں میں ایک شہر پر پھینک دیا جاتا ہے اور وہ اس طرح برباد ہو جاتا ہے کہ لوگ یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں شہر ہے بلکہ انہیں کہنا پڑتا ہے کہ فلاں شہر جو کبھی ہوا کرتا تھا۔تو آج دنیا میں ایسے خطر ناک حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ اس جنگ کے مقابلہ میں پہلی جنگ کی کوئی نسبت ہی نہیں رہی۔پس میں سمجھتا ہوں اس جنگ کا نتیجہ یہ نہیں ہو گا کہ مذہب سے لوگ اور زیادہ بیزار ہو جائیں بلکہ اس جنگ کے نتیجہ میں مذہب سے لگاؤ اور انس پیدا ہو جائے گا اور لا مذ ہبیت جو لوگوں کے قلوب میں پائی جاتی ہے وہ جاتی رہے گی چنانچہ ابھی سے اس قسم کی آواز میں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں کہ یہ خمیازہ در حقیقت مذہب سے دور ہو جانے کا ہے۔گو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس چیز کو وہ لوگ مذہب سمجھتے ہیں وہ اور ہے اور جس چیز کو ہم مذہب سمجھتے ہیں وہ اور ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ مذہب خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کا نام ہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ کسی نظام کی خواہ وہ اخلاقی نظام ہی کیوں نہ ہو فرمانبرداری کرنا مذ ہب ہے۔گویا ہم خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کا نام مذہب رکھتے ہیں اور وہ کسی اخلاقی نظام کی فرمانبرداری کا نام مذہب رکھتے ہیں اور چونکہ ہر اخلاقی نظام خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہونا ضروری نہیں اس لئے وہ اپنی قوم کی ترقی کے لئے جو بات بھی ضروری سمجھتے ہیں اسے وہ اس نظام میں شامل کر لیتے ہیں۔ابھی مولوی جلال الدین صاحب شمس کا تار آیا ہے کہ انگلستان کے بڑے بڑے پادریوں نے فیصلہ کیا ہے کہ انجیل میں تو کہا گیا ہے کہ عورت کو ننگے سر گر جامیں نہیں جانا چاہئے۔ہم اس کے باوجود یہ حکم دیتے ہیں کہ اگر عور تیں