خطبات محمود (جلد 23) — Page 517
خطبات محمود 517 * 1942 ایک ایسی جنگ میں سے گزر رہی ہے کہ پہلی جنگ اس کے مقابلہ میں بالکل بچوں کا کھیل نظر آتی ہے۔جیسے پہلے غلیلوں سے لڑائی کی جاتی تھی اور پھر رائفلوں سے جنگ شروع ہو گئی۔ویسا ہی فرق 1919ء اور 1939ء کی جنگ میں ہے۔وہ جنگ اس کے مقابلہ میں بالکل ایسی نظر آتی ہے جیسے غلیلوں کی لڑائی ہوتی ہے۔جتنے بم اس وقت ایک سال میں گرائے جاتے تھے اتنے ہم اس جنگ میں بعض دفعہ ایک دن میں ایک جگہ پر گرا دیئے جاتے ہیں۔جس گولہ باری پر پہلی جنگ میں مہینوں لگ جاتے تھے اور مہینوں کے بعد گولہ باری کی وجہ سے راستہ ملنانا ممکن ہو تا تھا۔اب موجودہ جنگ میں چند گھنٹوں کے اندر اندر اتنی گولہ باری کر دی جاتی ہے کہ چاروں طرف رستے بند ہو جاتے ہیں اور لاشوں اور ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔پھر کجا تو وہ دن تھا کہ ہوائی جہاز میں دو یا تین آدمی بیٹھ سکتے تھے اور اگر ایک ہوائی جہاز اڑانے والا ہو تا تھا تو وہ اپنے ساتھ صرف پانچ من گولوں کا بوجھ لے کر ایک مقام سے دوسرے مقام تک جا سکتا تھا اور کجا یہ دن ہے کہ آج دس دس بیس بیس ہزار پونڈ کے گولے ایک ہوائی جہاز اٹھا لیتا ہے اور ایک ایک ہوائی حملہ میں چار چار ہزار ٹن یعنی سوالا کھ من کے بم ایک شہر پر پھینک دیئے جاتے ہیں۔اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ یہ جنگ پہلی جنگ کے مقابلہ میں کس قدر تباہ کن اور برباد کرنے والی ہے۔پھر تم اس جنگ کی ہولناکی کا اس امر سے بھی اندازہ لگا سکتے ہو کہ آج سے پانچ مہینے پہلے جرمنی کے ایک شہر کولون پر بمباری کی گئی تھی۔ابھی پچھلے دنوں سویڈن کا ایک اخبار نویس وہاں گیا اور اس نے وہاں سے واپس آکر اخبارات میں شائع کرایا کہ میں ابھی ابھی کولون کو دیکھ کر واپس آرہا ہوں۔باوجود اس کے کہ پانچ مہینے گزر چکے ہیں ابھی تک کولون کی گلیوں میں سے ملبہ تک اٹھایا نہیں جاسکا اور شہر کی تمام آبادی کو ملک کے مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔پھر وہ لکھتا ہے کولون اس قدر تباہ ہو چکا ہے کہ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ شہر جو کولون ہے بلکہ تمہیں یہ کہنا چاہئے کہ وہ شہر جو کبھی کولون ہوا کرتا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں بھی یہی بتایا گیا تھا“ ان شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا " کئی دوست بیان کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس وقت لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ فلاں شہر ہے بلکہ یہ کہیں گے کہ فلاں شہر ہوا کرتا تھا۔