خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 497

* 1942 497 خطبات محمود بھی ساحر کہتے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دوست نے سنایا کہ فیروز پور کے علاقہ میں ایک مولوی تقریر کر رہا تھا کہ احمدیوں کی کتابیں بالکل نہ پڑھنی چاہئیں اور قادیان میں ہر گز نہ جانا چاہئے اور اس کذاب نے لوگوں کو اپنا ایک من گھڑت واقعہ بھی اپنی بات کی تائید میں سنایا۔اس نے کہا میں ایک دفعہ قادیان گیا، میرے ساتھ ایک رئیس بھی تھا۔ہم مہمانہ خانہ میں جا کر ٹھہرے اور کہا کہ مرزا صاحب سے ملنا ہے۔تھوڑی دیر میں مولوی نور الدین صاحب آگئے اور بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگے۔اس کے تھوڑی دیر کے بعد ہمارے لئے ایک شخص حلوہ لایا اور مولوی نور دین صاحب نے کہا کہ یہ آپ لوگوں کے لئے تیار کرایا گیا ہے۔میں تو جانتا تھا اس لئے سمجھ گیا کہ اس حلوے پر جادو کیا گیا ہے اس لئے اسے ہاتھ تک نہ لگایا مگر میرے ساتھی کو پتہ نہ تھا اس نے کھالیا۔میں کوئی بہانہ بنا کر وہاں سے کھسک گیا۔مولوی نور دین صاحب کو یہ پتہ نہ لگ سکا کہ میں نے حلوہ نہیں کھایا۔تھوڑی دیر کے بعد میر اوہ ساتھی کہنے لگا کہ میرے دل کو تو ایسی کشش ہو رہی ہے کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔گویا اس پر حلوے کا اثر ہو گیا مگر میں نے تو کھایا ہی نہ تھا اس لئے مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا اور تھوڑی دیر ہوئی تو مرزا صاحب نے اپنی فٹن تیار کرائی اس میں وہ خود بھی بیٹھے اور مولوی نور دین صاحب کو بھی بٹھایا۔مجھے بھی ساتھ بٹھا لیا اور لگے مجھ سے باتیں کرنے۔میں بھی تجربہ کرنے کے لئے سر ہلا تا گیا۔انہوں نے سمجھا یہ مان لے گا۔اس نے حلوہ کھا لیا ہوا ہے۔پہلے تو کہا کہ میں نبی ہوں پھر تھوڑی دیر کے بعد کہا کہ میں محمد (صلی یی) سے بھی بڑھ کر ہوں اور پھر کہا کہ میں خدا ہوں۔یہ باتیں سن کر میں نے کہا اسْتَغْفِرُ الله ، یہ سب جھوٹ ہے۔اس پر مرزا صاحب نے مولوی نور دین سے حیرت کے ساتھ پوچھا کہ کیا اسے حلوہ نہیں کھلایا تھا؟ انہوں نے کہا کھلایا تو تھا۔اس مجلس میں ایک غیر احمدی وکیل بھی تھے جو کسی زمانہ میں یہاں حضرت خلیفہ اول کے پاس علاج کے لئے آئے تھے۔یہ بات سن کر وہ کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میں تو مولویوں سے پہلے ہی بد ظن تھا اور سمجھتا تھا کہ یہ لوگ بہت جھوٹے ہوتے ہیں مگر آج میں نے سمجھا کہ ان سے زیادہ جھوٹا اور کوئی ہوتا ہی نہیں۔انہوں نے لوگوں سے کہا آپ لوگ جانتے ہیں میں احمدی نہیں ہوں مگر میں علاج کے لئے خود وہاں ہو کر آیا ہوں اور وہاں رہا ہوں۔مولوی صاحب نے جتنی باتیں کیں ها الله سة