خطبات محمود (جلد 23) — Page 448
* 1942 448 خطبات محمود تجارت کا مال تھا جس کی قیمت ایک شخص نے دو ہزار اشرفی دی اور میں اس خیال سے بہت ہی خوش ہوا کہ آج خوب نفع کمایا ہے مگر اس مال پر کسی بادشاہ کی نظر تھی۔جب سودا ہو چکا اور اس نے مال سنبھال لیا تو وہ کہنے لگا مجھے بادشاہ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ اگر یہ مال تمہیں ایک لاکھ اشرفی تک مل سکے تب بھی ایک لاکھ اشرفی دے کر مال خرید لینا۔اس کا یہ فقرہ کہنا تھا کہ ایک دم میر ارنگ زرد ہو گیا۔اس خیال سے کہ 98 ہزار اشرفیاں مجھ سے کھوئی گئیں۔یہ ہے تو قصہ مگر دل کے صدمہ کی وجہ سے دنیا میں اس قسم کے واقعات کا ہونا بعید از قیاس نہیں۔ہارون الرشید نے کہا اچھا تمہارا رنگ زرد ہونے کی یہ وجہ ہے پھر اس نے اپنے خزانچی سے کہا جاؤ اور خزانہ سے ایک لاکھ اشرفیاں لے آؤ۔وہ گیا اور اس نے ایک لاکھ اشرفیاں لا کر بادشاہ کے سامنے رکھ دیں۔ہارون الرشید نے اس شخص سے کہا میں یہ تمام اشرفیاں تم کو دیتا ہوں۔اس نے کہا بادشاہ سلامت کیا واقع میں یہ اشرفیاں آپ نے مجھ کو دے دی ہیں۔بادشاہ نے کہا ہاں۔اس پر یکدم خوشی سے اس کا خون جوش میں آیا اور اس کے رنگ کی زردی سرخی میں تبدیل ہو گئی۔تو غم انسان کی حالت کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔اسی وجہ سے خدا نے اس کو عمل کا قائم مقام بنایا ہے۔تم ہزار نماز منافقت سے پڑھ سکتے ہو مگر غم کا معمولی اثر بھی تم پر منافقت سے نہیں ہو سکتا۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایمان تم کو پیچھے ملے اور نماز تم پہلے پڑھو مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ غم تمہارے دل میں پہلے پیدا ہو اور ایمان اور اخلاص بعد میں پید اہو۔بہر حال جن لوگوں نے کسی معذوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھے ، ان کے ثواب کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے راستہ کھلا رکھا ہوا ہے۔اسی طرح جن کے دلوں میں ایمان اور اخلاص ہے۔ان کے لئے بھی خدا تعالیٰ کے قرب کے دروازے کھلے ہیں۔باقی جو بہانے ساز ہیں ان کے لئے رمضان کا آنا یا نہ آنا برابر ہے۔ان کا کسی ایک دن نماز پڑھنے کے لئے آجانا۔در حقیقت اپنے ایمان کے دعوی پر لعنت کی مہر لگادینا ہے البتہ جو لوگ مخلص اور ایماندار ہیں ان کے اندر رمضان میں ہر روز ایک نئی تبدیلی پید اہوتی ہے۔ہر روز انہیں زیادہ دعاؤں کی توفیق ملتی ہے۔ہر روز انہیں اللہ تعالیٰ کا زیادہ قرب حاصل ہوتا ہے اور ہر روز انہیں زیادہ پاکیزگی اور طہارت حاصل ہوتی ہے اور اگر اسباب کی تہی دستی کی وجہ سے کسی دن ان کو روزہ رکھنے کی توفیق نہیں ملتی۔تو ان کا دل