خطبات محمود (جلد 23) — Page 439
* 1942 439 خطبات محمود روزہ نہیں رکھتی تھی۔اس لئے مالکہ نے خیال کیا کہ اسے خواہ مخواہ سحری کے وقت تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے، اس وقت کا کام میں کر لیا کروں گی چنانچہ دو چار دن کے بعد مالکہ اس سے کہنے لگی۔لڑکی تو سحری کے وقت نہ اٹھا کر ہم خود اس وقت کام کر لیا کریں گے تمہیں اس وقت تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ بات سن کر اس لڑکی نے نہایت حیرت کے ساتھ اپنی مالکہ کے چہرہ کی طرف دیکھا کہ یہ مجھ سے کیا کہہ رہی ہے اور کہنے لگی بی بی نماز میں نہیں پڑھتی، روزہ میں نہیں رکھتی۔اگر سحری بھی نہ کھاؤں تو کافر ہی ہو جاؤں۔در حقیقت یہ تصویری زبان میں مسلمانوں کی حالت ہی بیان کی گئی ہے۔دوسرے لفظوں میں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ اگر کسی مسلمان کو کہا جائے کہ میاں جمعۃ الوداع سے کیا بنتا ہے۔تم کیوں خواہ مخواہ اس کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتے ہو تو وہ حیرت سے تمہارے منہ کو دیکھنے لگ جائے گا اور کہے گا بھائی جان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔روزانہ نمازوں کے لئے میں مسجد میں نہیں جاتا، روزے میں نہیں رکھتا۔اگر جمعۃ الوداع بھی نہ پڑھوں تو کافر ہی ہو جاؤں۔پس یہ بھی ایک ہنسی ہی ہے کہ ایک وقت آکر نماز پڑھ لی اور سمجھ لیا کہ ہمارے سب فرائض ادا ہو گئے ہیں اور پھر اس کے ساتھ ہی رمضان کو بھی رخصت کر دیا۔گجا محمد صلی الم کا وداع تھا اور کجا ان لوگوں کا وداع ہے۔یہ لوگ ایک ہفتہ پہلے ہی رمضان کو وداع کر دیتے ہیں اور محمد صلی الی یوم عید کے بعد شوال میں چھ روزے رکھ کر رمضان کو وداع کرنے جاتے تھے۔محمد صلی ال نیم کا وداع رمضان کے ختم ہونے کے بعد ہو تا تھا اور آجکل کے مسلمانوں کا وداع رمضان کے ختم ہونے سے پہلے ہوتا ہے حالانکہ اگر مسلمان سوچتے تو انہیں معلوم ہو تاکہ روزہ ضائع ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی بلکہ روزہ خواہ بیماری کی وجہ سے ضائع ہو یا سفر کی وجہ سے مومن کی روح سخت بوجھ محسوس کرتی ہے اور اسے غم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آقا کا حکم اپنی کسی معذوری کی وجہ سے بجا نہیں لا سکا۔فرض کرو تمہارا کوئی پیارا دوست تم کو بلاتا ہے اور تم اس وقت بیمار ہو تو بے شک تم اس وقت معذور قرار دیئے جاؤ گے مگر کیا تم اس وقت ویسے ہی خوش ہو سکتے ہو جیسے وہ شخص خوش ہوتا ہے جسے اس کے دوست نے بلایا اور اس کے ملنے کے لئے چل پڑا یا کیا تم محض اتنے پر خوش ہو جاؤ گے کہ میں اس وقت بیمار پڑا تھا تم اس وقت خوش نہیں ہو گے بلکہ اپنے دوست