خطبات محمود (جلد 23) — Page 41
* 1942 41 خطبات محمود مسلمانوں کے لئے اس کی نسبت کم۔مگر ایسا نہیں ہے حالانکہ خود آنحضرت صلی ایم کا نمونہ ہمارے سامنے ہے۔احد کی جنگ میں بعض مسلمانوں کی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کی فتح شکست بدل گئی اور کفار نے پیچھے سے حملہ کر کے مسلمانوں کو تتر بتر کر دیا تو ایسی خطر ناک حالت پید ا ہو گئی کہ بعض مسلمانوں نے یہ خیال کیا کہ ہمیں آج کفار شہر تیغ اور نیست و نابود کر دیں گے اور لشکر میں سے بعض تو ایسے گھبرائے کہ بھاگ کر مدینہ جا پہنچے اور یہ بھی مشہور ہو گیا کہ آنحضرت صلی الی یوم شہید ہو گئے ہیں اور مسلمانوں کی یہ کیفیت تھی کہ زمین و آسمان ان کے لئے تنگ ہو گئے تھے اور وہ سمجھنے لگے تھے کہ آج ہمارے ٹھکانے کی کوئی جگہ نہیں۔ایک انصاری کے متعلق لکھا ہے کہ وہ فتح ہونے کے بعد لشکر سے پیچھے چلے گئے۔انہوں نے کھانا نہ کھایا تھا اور فتح حاصل ہونے کے بعد جب مسلمان کا فروں کو قید کرنے لگے تو وہ الگ چلے گئے۔ان کے پاس کچھ کھجوریں تھیں جو وہ کھانے لگے۔وہ ٹہلتے ٹہلتے جو آئے تو دیکھا کہ حضرت عمر ایک پتھر پر بیٹھے رورہے ہیں۔انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ عمر عمر کو فتح ہوئی ہے اور آپ رور ہے ہیں۔کیا بات ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ کیا تمہیں پتہ نہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا نہیں۔حضرت عمر نے کہا کہ دشمن نے اچانک پیچھے سے حملہ کر دیا اور مسلمان تتر بتر ہو گئے اور آنحضرت صلی ال ہم بھی شہید ہو گئے۔ان کے پاس دس پندرہ یا ہیں جتنی بھی کھجوریں تھیں وہ کھا چکے تھے اور صرف ایک کھجور باقی تھی۔حضرت عمر کی یہ بات سنی تو اس کھجور کو زمین پر پھینک دیا اور کہا کہ میرے اور خدا تعالیٰ کی جنت کے درمیان اس کھجور کے سوا اور کیا ہے۔پھر حضرت عمر کی طرف تعجب سے دیکھا اور کہا کہ عمر ! رو کس لئے رہے ہو۔ہمارا کام یہ ہے کہ جہاں رسول کریم صلی علیم گئے ہیں وہیں ہم بھی جائیں۔یہ کہہ کر تلوار کھینچی اور اکیلے ہی دشمن کے لشکر پر جا پڑے اور ایسی بے جگری سے لڑے کہ جنگ کے بعد ان کی لاش بھی ایک جگہ نہ ملی۔بلکہ ہاتھ کٹا ہوا کہیں سے ملا۔پاؤں کہیں سے اور دھڑ کہیں سے۔تو یہ گویا ایسا سخت وقت تھا کہ جو اسلام کے تاریک ترین اوقات میں سے ایک تھا مگر جلدی ہی صحابہ کو معلوم ہو گیا کہ یہ ان کی غلطی تھی اور رسول کریم مالی می کنم زندہ ہیں۔آپ کے جو محافظ تھے وہ شہید ہو ہو کر آپ کے اوپر گر پڑے تھے اور آپ بے ہوش ہو کر ان کے نیچے پڑے تھے۔الله سة