خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 339

* 1942 339 خطبات محمود کھلانے کو تیار نہیں۔لیکن اگر مسلمانوں میں غیرت ہے تو وہ کتے کی طرح کیک کھانا ہر گز برداشت نہ کریں گے اور اسے ٹھکرا دیں گے اور اپنا حصہ لے کر رہیں گے۔پس گاندھی جی اور کانگرس سے ہمیں خطرہ ہے لیکن دوسری طرف انگریزوں سے بھی خطرہ ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ آج اگر مسلمان قربانیاں کریں اور اس فتنہ کو ملک سے دور کریں تو کل کو انگریز یہ نہ کہہ دے گا کہ اب ہند و کمزور ہو چکے ہیں اب ان سے سمجھوتہ کر لیا جائے اور یہ سمجھوتہ کرنے میں اگر مسلمانوں کے حقوق تلف ہوتے ہیں تو بے شک ہوں کیونکہ آج تک انگریزوں نے کوئی ایسا اعلان نہیں کیا جس میں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا حتمی وعدہ ہو۔انگریز اس وقت یہ کہہ رہے ہیں کہ جنگ کے فوراً بعد وہ ہندوستان کو فوراً آزادی دے دیں گے۔یہ وعدہ ان کا مشتبہ ہے کیونکہ اگر مسلمانوں کی رضامندی آزادی کے لئے شرط ہے تو جنگ کے فوراً بعد آزادی دینے کا وعدہ درست نہیں ہو سکتا۔اس صورت میں وعدہ یوں ہونا چاہئے کہ جنگ کے بعد ہم ہندوستان کو آزادی دے دیں گے بشر طیکہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں سمجھوتہ ہو جائے یا اگر سمجھوتہ نہ ہو تو مسلمان اکثریت کے صوبوں کو الگ حکومت دے دیں گے مگر ایسا کوئی اعلان ان کی طرف سے نہیں۔خالی یہ اعلان کہ جنگ کے بعد فوراً آزادی دے دیں گے تو یہ معنے رکھتا ہے کہ اس کے بعد اگر مسلمان کو خوش نہ کیا جائے تب بھی آزادی دے دی جائے گی۔یہ ایک خطر ناک بات ہے۔غرض اس امر کی ذمہ داری کون لے سکتا ہے کہ انگریز بعد میں مسلمانوں سے وفاداری کریں گے۔آج کے حالات کل نہیں ہو سکتے۔آج کا دشمن کل ہمارا دوست ہو سکتا ہے۔اس لئے حالات ایسے ہیں کہ ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔اگر ایک طرف انگریز سے خطرہ ہے تو دوسری طرف کانگرس سے بظاہر اس سے بھی زیادہ خطرہ ہے اور ان حالات میں اگر کوئی صحیح رہنمائی ہو سکتی ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہو سکتی ہے۔وہی بتا سکتا ہے کہ آج ہم کونسا ایسا طریقہ اختیار کریں کہ کل جماعت کے لئے مشکلات نہ پیدا ہوں یا دوسری صورت کی نسبت کم ہوں۔بعض دفعہ دونوں طرف سے مشکلات ہوتی ہیں مگر ایک دوسری کی نسبت کم ہوتی ہے۔سب باتیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور ان حالات میں ہمارے لئے سوائے اس کے کوئی رستہ نہیں کہ اسی سے دعائیں کریں کہ