خطبات محمود (جلد 23) — Page 230
خطبات محمود 230 * 1942 میں نے متواتر انگریزوں کو توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ سچے دل سے ہماری طرف دعا کے لئے متوجہ ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات کو دور کر دے گا مگر افسوس کہ اپنی مادی ترقیات کی وجہ سے ان کو یہ تحریک نہیں ہوتی کہ ہمیں دعا کے لئے کہیں۔ایک بہت بڑے انگریز افسر نے ہمارے ایک معزز دوست سے کہا کہ میرے نزدیک تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دعا کے لئے کہا جائے مگر بعض مشیروں نے یہ رائے دی ہے کہ اس سے مختلف قوموں میں انگریزوں کے متعلق بدظنی پیدا ہو جائے گی حالانکہ انگریزی قوم اس وقت مصائب میں سے گزر رہی ہے کہ ایسی بدظنیوں کی اس کو کوئی پرواہ نہ کرنی چاہئے۔اب کیا مختلف قوموں میں اس کے متعلق بدظنی نہیں پائی جاتی۔ہر قوم اس پر یہ الزام لگاتی ہے کہ وہ ہر موقع پر دوسری سے مل جاتی ہے اور فساد پیدا کر دیتی ہے۔کانگرس کو یہ شکایت ہے کہ وہ مسلم لیگ سے مل کر ہندو مسلم اتحاد نہیں ہونے دیتی۔مسلم لیگ کہتی ہے کہ وہ کانگرس سے ڈر کر مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھ رہی ہے۔سوشلسٹ کہتے ہیں کہ وہ مالداروں کے ہاتھ میں ہے اور کیپٹلسٹ شور مچاتے ہیں کہ وہ برطانوی کیپٹلسٹوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہمیں نقصان پہنچاتی ہے۔غرضیکہ کوئی ایک قوم بھی نہیں جو موجودہ حکومت پر خوش ہو۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان قوموں میں بد ظنی پیدا ہو جانے کے ڈر سے دعا کرانے کی طرف متوجہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ سے مدد نہ چاہتی ہوئی اپنی مشکلات کو لمبا کرتی جائے۔تو ہیں دونوں کے پاس ہیں، کبھی اُن کی تو ہیں زیادہ ہو جاتی ہیں اور کبھی ان کی۔ہوائی جہاز دونوں کے پاس ہیں، کبھی ان کے ہوائی جہاز بڑھ جاتے ہیں اور کبھی ان کے۔ٹینک دونوں کے پاس ہیں کبھی ایک کے ٹینک بڑھ جاتے ہیں اور کبھی دوسرے کے۔فوجیں بھی دونوں کے پاس ہیں اور کبھی ایک فریق کی فوج زیادہ میدان میں آجاتی ہے اور کبھی دوسرے کی۔مگر ایک چیز ہے جو دونوں میں سے کسی کے پاس نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور دعا ہے۔یہ چیز نہ انگریز کے پاس ہے اور نہ اس کے دشمن کے پاس۔ہاں ظاہر طور پر دعا اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگنے کا شور انگریز اور ان کے ساتھی بھی مچاتے ہیں اور ان کے دشمن بھی۔مگر دعا کے یہ معنی نہیں کہ انسان اپنے غلط خیال پر اصرار کرتے ہوئے کہے