خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 231

* 1942 231 خطبات محمود کہ میں خدا سے دعا مانگتا ہوں اور اس کے لئے کوئی قربانی نہ کرے۔بغیر قربانی کرنے کے مُنہ سے کچھ مانگ لینا کسی کے لئے بھی کوئی مشکل نہیں۔پس یہ دعائیں جو کی جاتی ہیں محض خیالی ہیں اور کسی کام نہیں آسکتیں۔جس طرح لکڑی کی تو ہیں کسی کام نہیں آسکتیں۔جس طرح ربڑ کی کشتیاں جو کھلونے کے طور پر بنائی جائیں کسی کام نہیں آسکتیں، جس طرح ٹین کے ہوائی جہاز جنگ میں کام نہیں دے سکتے ، جس طرح سیسہ کے بنے ہوئے مصنوعی سپاہی کسی کام نہیں آ سکتے۔اسی طرح اس قسم کی دعائیں بھی کام نہیں آسکتیں اور جس طرح اصلی تو ہیں اصلی ہوائی جہاز، اصلی ٹینک اور حقیقی آدمی ہی جنگ میں کام آسکتے ہیں۔اسی طرح دعائیں بھی وہ فائدہ پہنچا سکتی ہیں جو حقیقی ہوں نقلی نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ انسانی فطرت کو خوب جانتا ہے۔اس لئے ایسے موقع پر وہ یہ تو امید نہیں رکھتا کہ ساری قوم مذہب تبدیل کرلے کیونکہ یہ بات تو لمبی بحثوں اور لمبے تجربہ سے تعلق رکھتی ہے مگر یہ ضرور چاہتا ہے کہ وہ اصلاح نفس کی طرف متوجہ ہو کر دل میں فیصلہ کرے کہ خدا تعالیٰ کی بات جو بھی ہو گی، وہ اسے قبول کرلے گی۔آج اللہ تعالی انگریزوں سے یہ امید نہیں رکھتا کہ وہ عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو جائیں۔البتہ ذہنیت کی تبدیلی ضرور چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ نادیدہ خدا کو جسے انہوں نے نہیں دیکھا، مخاطب کر کے کہیں کہ اے ہمارے رب ہم یہ نہیں جانتے کہ تیری سچائی کہاں ہے۔مگر اپنے گرد و پیش کے حالات سے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ تو ایک زبر دست ہستی موجود ہے اور تجھ سے امید رکھتے ہیں کہ اس بلا کو ہم سے ٹال دے اور ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ تیری صداقت جہاں بھی ملے گی ہم اسے ضرور قبول کر لیں گے اور اگر متحارب قوموں میں سے کوئی اتنی تبدیلی کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ سے مدد مانگے تو مجھے یقین ہے کہ وہ اس سے مصیبت کو ٹال دے گا اور کامیابی کے رستوں پر چلا دے گا۔بہر حال اب جنگ ایسے خطر ناک مرحلہ پر پہنچ گئی ہے کہ اسلام کے مقدس مقامات اس کی زد میں آگئے ہیں۔مصری لوگوں کے مذہب سے ہمیں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔وہ اسلام کی جو تو جیہہ اور تفسیر کرتے ہیں ہم اس کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہوں۔اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ ظاہری طور پر وہ ہمارے خدا ہمارے رسول اور ہماری کتاب کو ماننے والے ہیں۔