خطبات محمود (جلد 23) — Page 172
* 1942 172 خطبات محمود وہ کر سکتا ہے۔اول تو عور تیں اگر احتیاط سے کام لیں تو فاقہ کی نوبت ہی نہیں آسکتی۔وہ روٹی کا بہت سا حصہ ضائع کر دیتی ہیں، کچھ حصہ جل کر ضائع ہو جاتا ہے، کچھ کچارہ جاتا ہے، کچھ زائد پک جاتا ہے اور اس طرح وہ گائیوں اور بھینسوں یا کتوں کے آگے ڈالنا پڑتا ہے یا بعض دفعہ بے وقت روٹی پکالی جاتی ہے اور اس طرح روٹی کا ایک حصہ ضائع ہو جاتا ہے پھر قریباً روزانہ ایسی بے احتیاطی سے روٹی پکائی جاتی ہے کہ ہر گھر میں روٹی آدھ روٹی روزانہ بیچ جاتی ہے۔اگر عور تیں اس بارہ میں احتیاط کریں تو یقیناوہ اپنے چالیسویں حصہ کی کمی کو پورا کر سکتی ہیں لیکن اگر بفرض محال یہ کمی ان سے پوری نہ ہو سکے تو بھی اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ چالیس دن میں ایک دن کا فاقہ۔حالانکہ ہمیں اسلام نے روزوں کے ذریعہ بارہ دن میں ایک دن کا فاقہ کرنا سکھایا ہے۔گویا عام دنوں میں جب کوئی خاص مصیبت نہیں ہوتی۔اسلام یہ چاہتا ہے کہ تم گیارہ دن کھاؤ اور بارھویں دن اپنے غریب بھائیوں کے لئے فاقہ کرو۔پھر ایسی عظیم الشان مصیبت کے وقت جبکہ غلہ ملتا ہی نہ ہو چالیس دن میں ایک دن فاقہ کرنا کونسی بڑی بات ہے۔آجکل لوگ میری ہدایت کے ماتحت غلہ خرید رہے ہیں۔کسی کے گڈے آرہے ہیں، کسی کے ہاں مز دور غلہ لا رہے ہیں، کوئی ادھر اُدھر پھر کر گندم اکٹھی کر رہا ہے مگر پاس ہی ان کے ہمسایہ میں ایک غریب ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ آج تو روٹی کا انتظام ہے کل نہ معلوم کیا ہو گا۔ایسی حالت میں طبعی طور پر غرباء کے دلوں میں یہ خیال آتا ہے کہ ان کا گزارہ کیسے ہو سکے گا بالخصوص دوسروں کے گھروں میں غلہ آتے دیکھ کر غریب لوگوں اور ان کے بیوی بچوں کے دلوں کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ ایسی نہیں جسے آسانی کے ساتھ بر داشت کیا جاسکے۔پس اول تو میں قادیان والوں سے کہتا ہوں کہ جنہوں نے غلے خریدے ہیں۔ان میں سے جن کو خدا تعالیٰ ہمت اور توفیق دے۔وہ غلہ خرید کر اس کا چالیسواں حصہ غرباء کے لئے الگ کر لیں اور اپنی بیویوں کو سنا دیں کہ تم نے پکانے میں ایسی احتیاط سے کام لینا ہے کہ یہ کمی پوری ہو جائے اور اگر یہ کمی پوری نہ ہوئی تو ہمیں چالیس دنوں میں سے ایک دن فاقہ کرنا پڑے گا۔پھر باہر کی جماعتوں کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ بھی اس میں حصہ لیں۔اس میں روپیہ کی صورت میں وعدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ غلہ کی