خطبات محمود (جلد 23) — Page 155
* 1942 155 خطبات محمود نہیں ہوتی بلکہ مومن کا کام یہ ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھی بدسلو کی نہ ہونے دے۔بہر حال گورنمنٹ کی وہ چٹھی ہمارے پاس موجود ہے اور اس سے اس معترض کے اعتراض کا جواب ہو سکتا ہے کہ اس رنگ میں ازالہ پہلے ہی گورنمنٹ کر چکی ہے مگر ہمارا مطالبہ گورنمنٹ سے یہ نہیں تھا اور نہ ہمیں اس معاملہ میں در حقیقت کوئی ایسا خیال ہو سکتا ہے کیونکہ جہاں تک امام جماعت احمد یہ کا سوال ہے۔امام جماعت احمد یہ ہونے کے لحاظ سے اور سلسلہ احمدیہ کے لحاظ سے ہمارا یقین ہے کہ جو خدائی سلسلے ہوتے ہیں ان کے کارکنوں کی کوئی شخص ہتک نہیں کر سکتا اور جو بظاہر ہتکیں نظر آتی ہیں وہ ان ہتک کرنے والوں کا اپنی گردنوں پر اپنا وار ہو تا ہے۔ها الله سة رسول کریم صلی اللہ ظلم کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے جب آپ سجدہ میں گئے تو ابو جہل نے اونٹ کی اوجھڑی اور انتڑیاں لا کر آپ کے سر پر رکھ دیں۔اونٹ کی اوجھڑی اور انتڑیاں بڑی بھاری چیز ہیں پھر وہ گندی اور غلیظ چیز ہیں مگر بہر حال اس نے ایسا کیا۔اب اس نے تو اپنے دل میں سمجھا ہو گا کہ اس نے اس فعل سے رسول کریم صلی لیلی کی ہتک کر دی مگر جاننے والے جانتے رہیں گے کہ ابو جہل نے اونٹ کی اوجھڑی اور اونٹ کی انتڑیاں رسول کریم صلی کمی کی گردن پر نہیں رکھیں بلکہ اس نے اپنی اوجھڑی اور اپنی انتڑیاں اپنی گردن میں لٹکائی تھیں۔اب واقعہ تو یہ ضرور ہوا کہ اونٹ کی اوجھڑی اور انتڑیاں رسول کریم صلی نی نی کی گردن پر رکھی گئیں چنانچہ ساری تاریخیں بتاتی ہیں کہ رسول کریم ملی ایم کے ساتھ یہ واقعہ ہوا اور تاریخوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس سے رسول کریم صلی یکم کو تکلیف ہوئی اور آپ سجدہ سے اپنا سر نہ اٹھا سکے یہاں تک کہ بعض صحابہ آئے اور انہوں نے اس بوجھ کو رسول کریم صلی علیہ کی پر سے دور کیا مگر اس سے رسول کریم صلی لنی کیم کی کیا ہتک ہو گئی۔آج تک ہم فخر سے اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں اور ہم جب کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی کی کمی کی گردن پر ابو جہل نے اونٹ کی او جھڑی اور انتڑیاں لا کر رکھ دیں تو ہمارے دل شر مندگی محسوس نہیں کرتے بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس نے رسول کریم صلی ال نیم کی نبوت اور آپ کی صداقت کا ثبوت لوگوں کے سامنے پیش کر دیا کیونکہ ہمیشہ دنیا دار لوگ انبیاء کی مخالفت کرتے ، ان کو دکھ دیتے، انہیں قسم قسم کی اذیتیں پہنچاتے اور ہر رنگ میں ان کی ہتک کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ ہتک ان نبیوں کی نہیں ہوتی