خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 154

* 1942 154 خطبات محمود اظہار افسوس کرنا چاہے تو کر دے۔پھر بھی ہماری جماعت کے بعض مخلصوں نے اسی وقت اپنے نام پیش کرنے شروع کر دئے تھے اور بعض نے اعلان کا انتظار کیا۔گو دلوں میں ہر قربانی پر آمادہ ہو گئے فَجَزَاهُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ یہ سوال کو مہینے تک برابر گور نمنٹ اور ہمارے درمیان چلتا رہا۔اس کے متعلق گورنمنٹ نے لوکل تحقیقات بھی کرائی ہے اور پھر پولیس کے ڈی۔آئی۔جی بھی یہاں تحقیقات کے لئے آئے تھے۔غالباً د سمبر یا نومبر کا مہینہ تھا جبکہ وہ آئے۔ایک حاسد نے گزشتہ ایام میں لکھا تھا کہ احمدی جماعت اپنا نظام لئے پھرتی ہے تم کو نظام نے کیا فائدہ دیا۔ڈلہوزی کے واقعہ پر ہی گورنمنٹ تمہاری کوئی تسلی نہ کر سکی۔میں نے اس وقت جواب میں کچھ لکھنا مناسب نہیں سمجھا تھا کیونکہ ابھی معاملہ چل رہا تھا حالانکہ اس کا جواب میں اسی وقت دے سکتا تھا کہ جہاں تک امام جماعت احمدیہ کا سوال ہے۔گورنمنٹ شروع میں ہی اظہار افسوس کر چکی تھی لیکن ہماری بحث گورنمنٹ سے یہ نہیں تھی کہ امام جماعت احمدیہ سے یہ واقعہ پیش نہیں آنا چاہئے تھا بلکہ ہماری بحث یہ تھی کہ کسی ہندوستانی سے بھی ایسا واقعہ نہیں ہو نا چاہئے چنانچہ گورنمنٹ نے جو مجھے اس وقت چٹھی لکھی تھی اس میں اس نے لکھا تھا کہ افسوس ہے کہ ہمیں غلطی لگی اور ہمیں اس وقت یہ معلوم نہیں ہوا کہ امام جماعت احمدیہ کا اس سے کوئی تعلق ہے۔میں نے اسی وقت اس چٹھی کے جواب میں گورنمنٹ کو لکھ دیا تھا کہ میری اس جواب سے تسلی نہیں ہو سکتی کیونکہ میر اسوال انصاف کے قیام کے متعلق ہے۔میر اسوال یہ نہیں کہ امام جماعت احمدیہ سے اس قسم کا واقعہ پیش نہیں آنا چاہئے تھابلکہ میر اسوال یہ ہے کہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی ہندوستانی کو بھی ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔پس اس کا یہ اعتراض کہ جماعت کے نظام کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔بے محل اعتراض تھا کیونکہ جہاں تک امام جماعت احمد یہ کا تعلق تھا۔گورنمنٹ چند دنوں کے اندر اندر معذرت کا اظہار کر چکی تھی اور میں نے اس معذرت کو قبول نہیں کیا تھا اس لئے کہ میرے نزدیک امام جماعت احمدیہ ہونے کی حیثیت سے حکومت کی معذرت کافی نہ تھی۔در حقیقت کوئی مومن صرف اس بات پر خوش نہیں ہو سکتا کہ اس کے ساتھ بد سلوکی