خطبات محمود (جلد 23) — Page 119
* 1942 119 خطبات محمود کہ جو کام کرنے ضروری ہیں وہ ہم نہ کریں اور اس طرح ہم ترقی سے محروم ہو جائیں۔پس تو ہماری حفاظت فرما اور ہمیں اس غلطی سے محفوظ رکھ او اخطانا اور یا الہی یہ بھی نہ ہو کہ جو کام ہمیں نہیں کرنا چاہئیں وہ ہم کر لیں یا ہم کریں تو وہی جو ہمیں کرنا چاہئے مگر غلط طریق پر کریں۔پس نسیان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کام کرنے تھے وہ کسی انسان سے رہ جائیں اور خطا کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کام نہیں کرنے چاہئے تھے وہ کر لئے جائیں یا جن کاموں کا کرناضروری تھا وہ غلط طور پر کئے جائیں۔تو نسیان عدم عمل کا نام ہے اور خطا عمل کی خرابی کو کہتے ہیں۔اسی لئے یہاں دو لفظ استعمال کئے گئے ہیں۔پس ان میں سے کوئی لفظ زائد نہیں بلکہ ہر لفظ اپنی اپنی جگہ ضروری ہے۔پھر فرماتا ہے رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا اور اے ہمارے رب ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جس کے ساتھ سزا لگی ہوئی ہو۔جس طرح تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر بوجھ ڈالا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ہمیں اتنی نمازیں پڑھنے کو نہ بتا جو ہم پڑھ نہ سکیں کیونکہ خدا تعالیٰ شریعت کے متعلق قرآن کریم میں ہی ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہ ہم نے اسے آسان بنایا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو حکم آتے ہیں وہ انسان کی طاقت اور اس کی توفیق کے مطابق ہوتے ہیں۔پس اس کے یہ معنی نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ بعض جرائم کی بناء پر پہلے لوگوں کے لئے جو سزائیں نازل کی گئی تھیں وہ سزائیں ہم پر نازل نہ ہوں اور ہم سے وہ غلطیاں سرزد نہ ہوں جو پہلے لوگوں سے سرزد ہوئیں اور جن کی وجہ سے وہ تباہ کر دیئے گئے۔انہوں نے تیری نافرمانیاں کیں اور تیرے احکام کے خلاف انہوں نے قدم اٹھایا جس کی وجہ سے ان پر ایسی حکومتیں مسلّط ہوئیں اور ایسے قانون ان کے لئے مقرر کر دیئے گئے جو ان کے لئے ناقابل برداشت تھے۔تو ہمیں اپنے فضل سے ایسے مقام پر کھڑا نہ کیجو کہ ہم سے ایسی خطائیں سرزد ہوں اور ہمیں بھی ایسی سزائیں ملیں جو ہمارے نفس کی طاقت برداشت سے باہر ہوں۔اس کے یہ معنے نہیں کہ نفس کی طاقت برداشت کے مطابق اگر خدا تعالیٰ سے سزا ملے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔بات یہ ہے کہ ہر روحانی سزا برداشت سے باہر ہوتی ہے اس کی رذالت ہی