خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 118

* 1942 118 خطبات محمود ہوتے ہیں۔انہیں کئی قسم کے دکھ ہوتے ہیں۔تکلیفیں ہوتی ہیں، حسرتیں ہوتی ہیں، قسم قسم کے مصائب ہوتے ہیں مگر جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ خدایا مجھے عَذَابَ النَّار سے بچا۔تو خدا اسے اس عذاب سے بچالیتا ہے۔تب وہی چیزیں جو پہلے اس کے لئے نار تھیں جنت بن جاتی ہیں۔اسی طرح اس سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہے جس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھلائی ہے۔اب بظاہر یہ ایک مختصر سی دعا ہے مگر بڑی جامع اور وسیع دعا ہے۔عَذَابُ النَّار کے لحاظ سے دنیا کی لڑائی بھی مرادلی جاسکتی ہے کیونکہ لڑائی بھی آگ کا ہی عذاب ہے۔پس جو شخص یہ دعا کرے گا کہ ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ـ وہ گو یاخد اتعالیٰ کے بیان فرمودہ الفاظ میں یہ دعا کرے گا کہ الہی دنیا میں مجھ پر کوئی ساعت ایسی نہ آئے جو بُری ہو۔لڑائی مجھ سے دور رہے اور یہ آگ کا عذاب میرے قریب نہ پہنچے۔اگر کوئی سپاہی لڑائی میں شامل ہو اور وہ یہ دعا کرے تو اس کی دعا کے یہ معنی ہوں گے کہ الہی لڑائی کے بد اثرات سے مجھے بچا۔بندوق کی گولی آئے تو وہ مس کر جائے میرے دائیں نکل جائے یا بائیں نکل جائے ، اوپر نکل جائے یا نیچے نکل جائے۔بہر حال وہ مجھے نہ لگے اور میں محفوظ رہوں۔پس ایک تو یہ دعا ہے جس پر زور دینا چاہئے۔دوسری دعا جس پر ان ایام میں خصوصیت سے زور دینا چاہئے۔وہ ہے جو سورۃ بقرہ کے آخر میں بیان ہوئی ہے کہ ربنا لا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَانَا اے ہمارے رب ہمیں مت پکڑ۔اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا سر زد ہو جائے۔بھول جانے کے معنی یہ ہیں کہ کوئی کام کرناضروری ہو مگر وہ نہ کیا جائے اور خطا کے معنی یہ ہیں کہ کام تو کیا جائے مگر غلط کیا جائے۔بعض لوگ اس بحث میں پڑ گئے ہیں کہ نسیان اور خطا دو ہم معنی لفظ یہاں کیوں لائے گئے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ دنیا میں کام دو قسم کے ہوتے ہیں۔کوئی کام تو ایسے ہوتے ہیں جو کرنے ضروری ہوتے ہیں مگر انسان نہیں کرتا اور کوئی کام ایسے ہوتے ہیں جو انسان کرتا تو ہے مگر غلط طور پر کرتا ہے اور یہ دونوں ہی غلطیاں ہوتی ہیں۔نسیان کے معنی بھول جانے کے ہیں اور بھولنا کرنے کے متعلق ہوتا ہے نہ کرنے کے متعلق نہیں ہو تا۔پس رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا کے معنی یہ ہوئے کہ خدایا ایسانہ ہو