خطبات محمود (جلد 23) — Page 105
$1942 105 خطبات محمود محتاج ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے اسے اپنالیا اور کہا کہ آج سے یہ ہمارا اور ہم اس کے کہلائیں گے۔آج ایک بڑھئی کا لڑکا ہونا اس کے لئے عزتوں کا موجب ہے۔اگر وہ کسی بادشاہ کا بیٹا ہو تا تو آج اس کی یہ شان ظاہر نہ ہوتی۔اسی طرح ہمارے آقاسید الانبیاء محمد مصطفی صلی ال کنیم کس غربت کی حالت رہے۔یتیم کی حالت میں آپ پیدا ہوئے اور ابھی چھوٹے ہی تھے کہ آپ کی والدہ بھی گزر گئیں۔مکہ کے لوگ اپنے بچوں کو باہر دیہات میں دائیوں کے پاس پرورش کے لئے بھیج دیا کرتے تھے تا شہر کی ہوا سے بچہ محفوظ رہے اور دیہات کی کھلی ہوا میں پرورش پا کر تندرست اور مضبوط ہو۔ان دودھ پلانے والی عورتوں کو بڑے بڑے تحفے ملتے تھے اور جب وہ بچہ کو واپس لاتیں تو بڑے بڑے انعام ملتے تھے مگر آمنہ کا خاوند فوت ہو چکا تھا اور کوئی جائداد تھی نہیں۔ایسی عورت کے بچہ کو پرورش کرنے کے نتیجہ میں کسی کو انعام یا تحائف ملنے کی کیا امید ہو سکتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ جہاں دوسرے گھروں میں عورتیں خود جا جا کر بچے حاصل کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔وہاں آمنہ خود ہر ایک سے درخواست کرتی تھیں کہ اس کے بچے کولے جائے مگر ہر ایک ناک بھوں چڑھا کر چلی جاتی تھی۔حلیمہ جسے آنحضرت صلی اللہ یکم کی پرورش کی سعادت نصیب ہوئی خود بھی ایک غریب عورت تھی۔وہ اگر چہ پہلے تو آپ کو ساتھ لے جانے سے انکار کر کے چلی گئی لیکن بوجہ غریب ہونے کے اسے بھی کوئی اپنا بچہ دینا پسند نہ کرتا تھا کیونکہ دینے والے بھی تو یہ دیکھتے تھے کہ ان کے بچوں کو کھانے پینے کے لئے اچھا مل سکے گا یا نہیں۔تو جہاں آمنہ کے بچہ کو لینے سے ہر دایہ نے انکار کیا وہاں حلیمہ کو ہر ایک نے اپنا بچہ دینے سے انکار کر دیا اور آخر وہ مجبور ہو کر اس شرم کے مارے کہ اس کی قوم کے لوگ کہیں گے کہ یہ بچہ لینے گئی تھی مگر کسی نے اسے پوچھا تک نہیں پھر لوٹ کر آمنہ کے پاس آئی کہ اچھا مجھے اپنا بچہ دے دو گویا ساری دائیوں کا رڈ کردہ بچہ اس دایہ نے لیا جسے سب مکہ والوں نے رد کر دیا تھا اور اس طرح وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ ”جس پتھر کو معماروں نے رڈ کیا، وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔“ 4 دایہ بھی معمار ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی بچہ کی پرورش کرتی اور بناتی ہے۔تو وہ تمام دائیوں کارڈ کیا ہوا بچہ حلیمہ کے گھر گیا اور وہ بھی اپنی شرم مٹانے کے لئے اسے لے گئی۔لیکن