خطبات محمود (جلد 23) — Page 80
* 1942 80 خطبات محمود ہوتی تھی مگر وہ ایسی نہیں تھی جیسی جنگی قوموں میں لڑائی ہوتی ہے بلکہ وہ اسی رنگ کی ہوا کرتی تھی جیسے کشمیری آپس میں لڑتے ہیں۔لیکن بہادر جنگجو تجربہ کارسپاہیوں سے جا کر لڑنا اور بات ہوتی ہے اور آپس میں لڑنا اور بات ہوتی ہے۔تو عرب کی نگاہ میں مدینہ کے لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے اور حقارت سے وہ ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ تو کھیتی باڑی کرنے والے لوگ ہیں۔مگر انہی لوگوں کو دیکھو رسول کریم صلی ال نیلم کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے بعد ان میں کتنا عظیم الشان فرق پیدا ہو گیا کہ وہی سبزی ترکاری بونے اور کھیتی باڑی کرنے والے لوگ دنیا کے بہترین سپاہی بن گئے۔بدر کے موقع پر مکہ کے بڑے بڑے سردار جمع تھے اور وہ خیال کرتے تھے کہ آج ہم مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں گے۔اس دن ایک ہزار تجربہ کار سپاہی جو بیسیوں لڑائیاں دیکھ چکا تھا اور جن کا دن رات کا شغل لڑائیوں میں شامل ہونا اور دشمنوں پر تلوار چلانا تھا مسلمانوں کے مقابلہ میں صف آراء تھا اور مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے۔بعض تاریخوں میں لکھا ہے کہ ان تین سو تیرہ مسلمانوں میں سے بعض کے پاس تلواریں تک نہ تھیں اور وہ لاٹھیاں لے کر آئے ہوئے تھے۔ایسی بے سرو سامانی کی حالت میں جب رسول کریم صلی علی یمن جنگ کے لئے چلے تو دو انصاری لڑکے بھی بضد ہو گئے کہ ہم نے بھی ساتھ چلنا ہے۔آخر رسول کریم صلی ا ہم نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی۔جب دونوں صفیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں کھڑی ہوئیں تو حضرت عبد الرحمان بن عوف جو نہایت ہی بہادر اور تجربہ کار سپاہی تھے کہتے ہیں اُس دن ہمارے دلوں کے ولولے کوئی شخص نہیں جان سکتا تھا۔ہم سمجھتے تھے کہ آج جبکہ خدا نے ہمیں لڑنے کی اجازت دے دی ہے ہم لگے والوں سے ان مظالم کا بدلہ لیں گے جو انہوں نے ہم پر کئے۔مگر وہ کہتے ہیں اچھا سپاہی تبھی اچھا لڑ سکتا ہے جب اس کا دایاں اور بایاں پہلو مضبوط ہو تا کہ جب وہ حملہ کرے اور دشمن کی صفوں میں گھس جائے تو وہ دونوں اس کی پشت کو دشمن کے حملہ سے محفوظ رکھیں۔آخر ایک شخص کی چار آنکھیں تو ہوتی نہیں کہ وہ آگے بھی دیکھے اور پیچھے سے بھی اپنی پیٹھ کو دشمن کے وار سے محفوظ رکھ سکے۔اس لئے بہادر سپاہی ہمیشہ درمیان میں کھڑے کئے جاتے ہیں تا اُن کے دائیں بائیں حفاظت کا خاص سامان رہے اور جب وہ د دشمن کی