خطبات محمود (جلد 23) — Page 81
* 1942 81 خطبات محمود صف کو چیر کر آگے بڑھیں تو ان کی پیٹھ کی حفاظت ہوتی رہے۔حضرت عبد الرحمان بن عوف کہتے ہیں میں نے اسی خیال کے ماتحت اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ دیکھوں میرے دائیں بائیں کون کھڑے ہیں۔وہ کہتے ہیں میری جو نظر پڑی تو میں نے دیکھاو ہی دو انصاری لڑکے پندرہ پندرہ سال کی عمر کے میرے دائیں بائیں کھڑے ہیں۔وہ کہتے ہیں ان لڑکوں کو دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا اور میں نے اپنے دل میں کہا۔اول تو یہ مدینہ کے رہنے والے ہیں جہاں کے لوگ لڑائی کے فن سے نا آشنا ہیں۔پھر یہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے ہیں انہوں نے میری کیا حفاظت کرنی ہے۔بس آج تو میرے دل کے جوش دل میں ہی رہیں گے اور میں اپنی حسرت نکال نہیں سکوں گا۔مگر وہ کہتے ہیں یہ خیال ابھی میرے دل میں آیا ہی تھا کہ مجھے اپنے دائیں طرف سے پہلو میں کہنی لگی میں نے مڑ کر اس لڑکے کی طرف دیکھا کہ وہ مجھے کیا کہنا چاہتا ہے وہ اپنا منہ میرے کان کے قریب لایا اور اس نے آہستگی سے مجھے کہا۔چاوہ ابو جہل کونسا ہے جو رسول کریم صلی الی یم الله سة کو دکھ دیا کرتا ہے۔میر ادل چاہتا ہے کہ آج اس سے بدلہ لوں۔وہ کہتے ہیں اس سوال پر میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی کیونکہ میں جو تجربہ کار سپاہی تھا میرے دل میں بھی یہ خیال نہیں آسکتا تھا کہ ابو جہل پر جو سالار لشکر تھا اور جس کے ارد گرد ایک ہزار تجربہ کار اور مسلح سپاہی کھڑا تھا حملہ کروں۔مگر وہ کہتے ہیں میں ابھی اس کو کوئی جواب دینے نہیں پایا تھا کہ مجھے اپنی بائیں طرف سے پہلو میں کہنی لگی۔میں نے اس کی طرف رخ کیا تو وہ بھی میرے کان کے قریب اپنا منہ لایا اور کہنے لگا چا! وہ ابو جہل کونسا ہے جو رسول کریم صلی الی یکم کو دکھ دیا کر تا ہے۔میر ادل چاہتا ہے کہ آج اس سے بدلہ لوں۔گویا دونوں لڑکوں نے ایک ہی سوال کیا اور دونوں نے آہستگی کے ساتھ حضرت عبد الرحمان بن عوف سے اس لئے دریافت کیا کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا تھا کہ میرا دوسرا ساتھی یہ بات نہ سن لے اور یہ نعمت اس کی بجائے اس کے دوسرے ساتھی کو حاصل نہ ہو جائے۔مگر ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ان دونوں کے دلوں میں ایمان نے ایک ہی جذبہ پیدا کر رکھا تھا۔حضرت عبد الرحمان بن عوف کہتے ہیں ان دونوں کے اس سوال سے میرے دل پر حیرت طاری ہو گئی اور مجھے ان کے ایمان کو دیکھ کر بہت ہی تعجب ہوا چنانچہ میں نے انگلی اٹھا کر یہ بتانے کے لئے کہ تمہارا خیال کیسانا ممکن ہے۔کہا کہ وہ قلب لشکر