خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 67

67 $1942 7 خطبات محمود زبر دست غنیم 1 طوفان کی طرح ہندوستان کی طرف چلا آ رہا ہے (فرمودہ 3، اپریل 1942ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔پچھلے دس دنوں میں کل سے مجھے دوسر احملہ انفلوئنزا کا ہو رہا ہے اور علاوہ کھانسی و نزلہ کے شدید تکلیف سر درد کی ہے جس کی وجہ سے حرکت کرنا، اٹھنا، بیٹھنا، وضو کرنا اور سجدہ میں جانا بھی درد کی شدت پیدا کر دیتا ہے۔اس لئے آج میرے لئے بولنا قریباً تکلیف ما لا يُطَاق ہو رہا ہے مگر چونکہ مجلس شوری کے لئے میں نے بہر حال آنا ہی تھا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ جمعہ بھی میں ہی پڑھاؤں۔ہماری شریعت نے ہمارے لئے ہر قسم کی سہولت بہم پہنچا دی ہوئی ہے اور جس قدر ہمارے اندر طاقت ہو اسی قدر کا حکم دیا ہے۔آج میری تکلیف کو دیکھ کر میری ایک بیوی نے پوچھا کہ آپ خطبہ کس طرح پڑھائیں گے۔میں نے کہا کہ ہماری شریعت نے ہمارے لئے سہولتیں بہم پہنچادی ہیں اس لئے اگر میں ایک فقرہ کہہ کر بھی بیٹھ جاؤں تو اسلامی احکام کے مطابق وہ بھی خطبہ کی غرض کو پورا کرنے والا ہو گا اور ایسے جامع مذہب کے ہوتے ہوئے مجھے خطبہ کے متعلق کوئی فکر نہیں ہو سکتا۔میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ سال نہایت نازک سال ہے۔آپ لوگ مجلس شوریٰ کے لئے اس موقع پر جمع ہوئے ہیں اور دسیوں، بیسیوں بلکہ سینکڑوں سال کے