خطبات محمود (جلد 23) — Page 563
* 1942 563 خطبات محمود میں تو یہ سپیشل کہلائے گی لیکن اصل میں اتنی ہی ہوں گی جتنی عام قاعدے کے مطابق چلا کرتی تھیں۔اگر یہ انتظام ہو بھی جائے تو بھی سلسلہ کے افسروں کو اس امر کی کوشش کرنی چاہئے کہ اگر ہو سکے تو بٹالہ میں کرایہ پر چلنے والی کچھ لاریوں کا انتظام بھی کر لیا جائے تا اگر ریل پر تمام سواریوں کے لئے گنجائش نہ ہو یا ایسے وقت میں وہاں سواریاں پہنچیں کہ گاڑی نہ مل سکتی ہو تو وہ یہاں پہنچ سکیں۔اس دفعہ جلسہ کی تاریخ بھی ایک دن پہلے کر دی گئی ہے 26،25، 27 تاریخیں مقرر ہوئی ہیں بجائے 26، 27، 28 کے۔کیونکہ اس سال حکومت نے چھٹیاں انہی تاریخوں میں رکھی ہیں۔27 کو تو اتوار ہے اور 25، 26 کو تعطیل ہے۔پس تاریخ ایک دن پہلے کر دی گئی ہے تالوگ آسانی سے شامل ہو سکیں پھر بھی ہماری جماعت کے ہزاروں آدمی ایسے ہیں جو اس سال شامل نہ ہو سکیں گے۔ہماری جماعت کے کم سے کم چھ سات ہزار آدمی لڑائی پر یا لڑائی سے متعلقہ بعض دوسرے کاموں پر جاچکے ہیں۔ایک ہزار ر نگروٹ تو صرف قادیان اور اس کے نواحی علاقہ سے ہی گیا ہے۔ایسی صورت میں یہاں اجتماع محدود ہو گا۔زیادہ تر جوان اور کمانے والے لوگ ہی آتے ہیں اس لئے میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جن کو توفیق ہو۔وہ اس سال ضرور پہنچیں تا جو لوگ اس سال نہ آسکیں گے۔یہ ان کے قائمقام ہو سکیں۔بیر و نجات سے جن غیر احمدیوں کو دوست ساتھ لاتے ہیں ان کے متعلق میں پہلے بھی یہ بتا چکا ہوں کہ وہ بالعموم احمدیت کو قبول کر لیتے ہیں لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ گزشتہ دو چار سال سے کچھ ایسے لوگ بھی یہاں آنے لگے ہیں جو صرف دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ایسے لوگوں کو جہاں لانے والوں کو نہ تو خود کوئی فائدہ ہو سکتا ہے، نہ آنے والوں کو اور نہ سلسلہ کو۔اس لئے دوست خیال رکھیں کہ صرف ایسے لوگوں کو ساتھ لائیں جو سنجیدگی سے سچائی کو قبول کرنے پر غور کرنے والے ہوں۔جلسہ دیکھنا، جلسہ منانا اور لطف اٹھانا کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس کے لئے دوست اپنے گھروں سے جائیں اور دوسروں کو یہاں آنے کی تحریک کریں۔جن لوگوں کو ساتھ لایا جائے وہ خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوں لیکن ایسے ہوں جن کے اندر تحقیقات کا مادہ ہو۔مجاوروں کی سی طبیعت کے لوگ نہ ہوں۔جن میں تحقیق کا مادہ ہی نہ ہو۔