خطبات محمود (جلد 23) — Page 562
* 1942 562 خطبات محمود ہو جاتی ہے اور یہ تعداد ایسی نہیں کہ جس کا بار ریلوے پر خاص طور پر پڑتا ہو۔اتنی تعداد میں تولوگ بڑے شہروں میں یوں بھی آتے رہتے ہیں۔پس میں امید تو نہیں کرتا کہ یہ اجتماع حکومت پر کوئی ایسا بار ہو کہ وہ اس کے لئے سہولت بہم پہنچانے کے لئے تیار نہ ہو لیکن اگر گورنمنٹ سہولت بہم پہنچائے تو بھی وہ ایسے پیمانہ پر نہ ہو گی کہ جس پر گزشتہ سالوں میں وہ انتظام کرتی رہی ہے۔اس لئے میں دور سے آنے والے دوستوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر وہ اس سال جلسہ میں شمولیت کرنا چاہتے ہیں تو کچھ دن زیادہ نکال کر آئیں مثلاً کوشش کریں کہ ہیں تاریخ کے قریب قریب قادیان پہنچ جائیں اور جلسہ کے ختم ہونے کے چار پانچ روز بعد یہاں سے روانہ ہوں تا اس طرح ان ملازموں کے لئے جو فوراً واپس جانے پر مجبور ہوں یا قریب کے لوگوں کے لئے گاڑیوں میں زیادہ جگہ مل سکے۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ ایسی ہے کہ قریب کے لوگوں کو بھی چاہئے کہ اسے مد نظر رکھیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے اگر گورنمنٹ نے کوئی انتظام کیا تو بھی اس سال گاڑیوں میں زیادہ بھیٹر ہو گی اور ایک کی جگہ دو آدمیوں کو مل سکے گی۔پس اس مشکل کو مد نظر رکھ کر گھروں سے نکلنا چاہئے۔جب انسان تکلیف کا پہلے سے اندازہ کر لیتا ہے تو وہ اسے کم معلوم ہوتی ہے۔پس اگر کوئی ایسے آدمی ہوں جو مراق کے مریض ہوں یا دل کی دھڑکن کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ہجوم کی برداشت نہ کر سکتے ہوں انہیں یا تو آنا نہیں چاہئے اور یا بٹالہ سے دوسری سواری میں آنا چاہئے کیونکہ ریلوں میں جس قسم کا ہجوم ہو گا ایسے لوگوں کے لئے اس کا برداشت کرنا مشکل ہو گا۔ہماری طرف سے کوشش ہو رہی ہے کہ گورنمنٹ اگر زیادہ گاڑیاں نہ چلائے تو کم سے کم کچھ دنوں کے لئے اتنی ہی چلا دے جو پہلے یہاں عام طور پر چلتی تھیں۔پہلے یہاں چار گاڑیاں روزانہ آتی تھیں اور جلسہ کے ایام میں سپیشل گاڑیاں ان کے علاوہ چلائی جاتی تھیں۔اس دفعہ کسی سپیشل گاڑی کی امید تو حد سے زیادہ ہے لیکن کوشش ہو رہی ہے کہ کم سے کم اتنی تو چلا دی جائیں جو پہلے عام حالات میں روزانہ چلا کرتی تھیں۔یہ بھی موجودہ لحاظ سے تو سپیشلیں ہی ہو جائیں گی لیکن دراصل پر انے عام قاعدے کی حد تک پہنچیں گی۔اس وقت یہاں صرف دو گاڑیاں آتی ہیں اگر ایک یادو اور چلا دی جائیں تو اصطلاحی رنگ