خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 548

* 1942 548 خطبات محمود خالی تخت گاہِ رسول کے الفاظ استعمال کریں تو دنیا میں سوائے مدینہ منورہ کے اور کوئی شہر اس سے مراد نہیں ہو سکتا اور اسی کو تخت گاہ رسول ” کہنے اور سمجھنے پر ہر شخص مجبور ہو گا۔میں جس جگہ پر کھڑا ہوں یہ خدا تعالیٰ کا گھر ہے۔کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا۔مسجدیں اللہ تعالیٰ کا ہی گھر ہوتی ہیں، کسی گاؤں کسی شہر اور کسی محلہ میں مسجد ہو وہ خد اتعالیٰ کا گھر کہلاتی ہے اور اگر کوئی شخص اس میں دخل دینے لگے اور زبر دستی اپنی حکومت جتائے تو ہم اسے کہہ سکتے ہیں کہ تمہارا کیا حق ہے کہ تم خدا کے گھر میں اپنی حکومت جتاؤ۔اسی طرح خدا کے گھر کے الفاظ ہم اس چھوٹی سی چھوٹی مسجد کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں جس میں صرف تین چار آدمی نماز پڑھ سکتے ہوں اور خدا کے گھر کو عربی زبان میں بیت اللہ کہتے ہیں۔اگر عرب میں کوئی ایسا ہی واقعہ پیش آئے اور کوئی شخص کسی مسجد میں جاکر دخل دینے لگے تو عرب اسے یہی کہیں گے کہ کیا تم بیت اللہ میں اپنی حکومت جتاتے ہو! مگر جب خالی بیت اللہ کا لفظ استعمال کیا جائے گا تو بیت اللہ سے مراد سوائے خانہ کعبہ کی مسجد کے اور کوئی مسجد نہیں ہو گی۔چاہے مسجد نبوی ہی کیوں نہ ہو۔جب بھی ہم خالی بیت اللہ کا لفظ بولیں گے تو چونکہ ہم نے یہ دستور مقرر کر لیا ہے کہ جب اس لفظ کو خالی استعمال کیا جائے تو اس سے مراد خانہ کعبہ کی مسجد ہوتی ہے۔اس لئے بیت اللہ سے خانہ کعبہ ہی مراد ہو گا کوئی اور مسجد مراد نہیں ہو گی اور اگر کوئی شخص خالی بیت اللہ کا لفظ استعمال کر کے کہہ دے کہ میری مراد اس سے فلاں مسجد تھی تو ہم ایسے شخص کے متعلق یہی کہیں گے کہ یا تو وہ خود فریب خوردہ ہے یا جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکا دیتا ہے۔خالی بیت اللہ کا لفظ جب بھی استعمال کیا جائے گا اس سے مراد خانہ کعبہ ہو گا اور خالی تخت گاہ رسول کا لفظ جب بھی استعمال کیا جائے گا اس سے مراد مدینہ منورہ ہو گا۔اسی طرح اگر کوئی احمدی کھڑ ا ہو اور وہ کہے کہ میں حدیث رسول بیان کرتا ہوں اور اس کے بعد وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی بات سنانی شروع کر دے تو ہم ایسے شخص کے متعلق یہی کہیں گے کہ وہ ایک فتنہ کی بنیاد رکھ رہا ہے کیونکہ گو حدیث کے معنے بات کے ہیں اور گو مسیح موعود اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں مگر خالی حدیث رسول کے الفاظ جب بھی استعمال کئے جائیں گے اس سے مراد صرف رسول کریم صلی ا م کی باتیں ہوں گی کسی اور رسول کی باتیں مراد نہیں ہوں گی۔اگر ہم ایسے