خطبات محمود (جلد 23) — Page 526
خطبات محمود 526 * 1942 اچانک اللہ تعالیٰ نے یہ سکیم میرے دل پر نازل کی اور میں نے اسے جماعت کے سامنے پیش کر دیا۔پس یہ میری تحریک نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی نازل کردہ تحریک ہے۔اس تحریک کی غرض میں نے بتادی ہے اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس کے لئے مسلسل قربانی اور ایثار کی ضرورت ہے۔اسی طرح اس تحریک کے لئے قربانی کرنے والوں کا وجو د ضروری ہے۔قربانی کے لئے مناسب ماحول ضروری ہے اور کاموں کی سر انجام دہی کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔اسی طرح چوتھی چیز دعا ہے۔یہ بھی اس تحریک کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔چنانچہ جماعت کے کچھ کے ذمہ روپیہ جمع کرنا لگا دیا گیا ہے اور کچھ حصہ کے لئے دعائیں کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ اس تحریک میں کم سے کم پانچ روپیہ دینے کی شرط رکھ کر باقی جماعت کو الگ کر دیا گیا ہے۔وہ یہ نہیں جانتے کہ اس میں ایک عظیم الشان فائدہ مخفی تھا۔اگر پانچ ، دس، سویا ہزار کی رقم مقرر نہ کی جاتی تو مالدار کبھی اتنی قربانی نہ کرتے جتنی آج کر رہے ہیں۔جو لوگ آج تحریک جدید میں پانچ روپیہ چندہ دے رہے ہیں وہ ایک ایک اور دو دو روپیہ دے کر دل میں اس بات پر خوش ہو جاتے کہ انہوں نے تحریک جدید میں حصہ لے لیا ہے اور وہ لوگ جو آج دس دس روپے دے رہے ہیں، چھ چھ روپے دے کر سمجھ لیتے کہ وہ تحریک جدید میں شامل ہو گئے ہیں اور ایک ایک ہزار دینے والے سو سو دے کر سمجھ لیتے کہ وہ اس ثواب میں شریک ہو گئے ہیں چنانچہ اس کا ثبوت اسی سے ملتا ہے کہ ابھی چند دن ہوئے میں نے تبلیغ خاص کے نام سے ایک تحریک کی ہے اور میں نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک پیسہ بھی دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔اس تحریک کے متعلق میرے پاس شکایت آئی ہے کہ اس میں لوگوں کی طرف سے چندہ کم آ رہا ہے۔اگر کوئی رقم معین کر دی جاتی تو اس قدر کم چندہ نہ آتا حالا نکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ اس تحریک سے میری غرض اور ہے اور تحریک جدید سے میری غرض اور ہے۔یہاں میری غرض صرف اتنی تھی کہ ہر شخص اپنے اپنے اخلاص کے مطابق اس تحریک میں حصہ لے۔چنانچہ اس عام اجازت سے مجھے اندازہ ہو گیا۔میں نے دیکھا ہے کہ اس چندہ میں تعداد کے لحاظ سے یوپی، بہار اور حیدر آباد نے بہت زیادہ حصہ لیا ہے مگر پنجاب نے بہت کم حصہ لیا ہے۔بعض بڑے بڑے شہروں نے تو بالکل حصہ لیا ہی نہیں مثلاً لا ہور ہے