خطبات محمود (جلد 23) — Page 527
* 1942 527 خطبات محمود اس کے گیارہ حلقوں میں سے صرف دو حلقوں نے اس میں حصہ لیا ہے۔امر تسر میں سے غالباً کسی نے بھی حصہ نہیں لیا۔اسی طرح پنجاب کے اور بعض شہر ایسے ہیں جن کی طرف سے کوئی وعدہ نہیں آیا۔اس کے مقابلہ میں یوپی میں وہ آدمی جو صرف چار یا پانچ روپیہ چندہ دیا کرتے ہیں ان میں سے کسی نے سو روپیہ چندہ دیا ہے، کسی نے ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دیا ہے اور کسی نے اڑھائی سو روپیہ چندہ دیا ہے۔اس سے مجھے یہ اندازہ لگانے کا موقع مل گیا ہے کہ وہ لوگ کس قسم کی تکلیفوں میں مبتلا ہیں اور ان علاقوں کے لوگوں کے اندر کس قدر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ جماعت ترقی کرے۔پس اس تحریک کے ذریعہ ان علاقوں کے لوگوں کی تکالیف کا مجھے احساس ہو گیا۔پنجاب میں چونکہ ہماری جماعت کثرت سے ہے اس لئے تبلیغ کا جوش لوگوں میں کم ہے۔جماعتیں بالعموم بڑی بڑی ہیں اور پھر قریب قریب ہیں۔اس لئے انہیں کوئی دکھ نہیں دیتا اور وہ اپنے آپ کو امن میں خیال کر کے تبلیغ سے غافل ہو گئے ہیں۔پس اس تحریک کا یہ فائدہ ہوا کہ مجھے بعض علاقوں کے لوگوں کی تکالیف کا احساس ہو گیا۔اگر میں اس تحریک میں مثلاً سوروپیہ کی رقم معین کر دیتا اور کہتا کہ اس سے کم رقم دینے کی کسی کو اجازت نہیں تو مجھے کس طرح پتہ لگتا کہ کون کون سے علاقوں میں لوگوں کو زیادہ تکلیف ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جماعتوں میں ترقی ہو۔اب اس طریق سے ایک طرف تو مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ پنجاب میں تبلیغ کا جوش کم ہے۔سوائے چند جماعتوں کے اور دوسری طرف یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یو۔پی، بہار اور حیدر آباد کی احمدی جماعتیں تکلیف میں ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہے کہ جماعت ترقی کرے۔اس کے مقابلہ میں تحریک جدید سے میری غرض یہ تھی کہ اس میں مالدار لوگ زیادہ حصہ لیں اور جو مالدار نہیں وہ اس میں مالی حصہ نہ لیں۔ہاں میں نے یہ کہہ دیا کہ جن کے پاس اس قدر روپیہ نہیں کہ وہ اس تحریک میں حصہ لے سکے وہ بھی اس تحریک میں حصہ لے سکتا ہے بشر طیکہ وہ تحریک جدید کی کامیابی اور احمدیت کی ترقی کے لئے با قاعدہ دعائیں کرے۔اگر میں یہ شرط نہ کرتا تو ایک غریب آدمی دھیلہ یا پیسہ دے کر بھی تحریک جدید میں شامل ہو جاتا مگر اب وہ مجبور ہے کہ باقاعدہ دعائیں کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہ بھی تحریک جدید میں حصہ لینے والوں میں سے سمجھا جائے اور میں جانتا ہوں ہماری جماعت میں