خطبات محمود (جلد 23) — Page 516
* 1942 516 خطبات محمود عرصہ کو کیوں نہ زیادہ سے زیادہ خوشی میں گزاریں اور کیوں نہ عیش اور آرام میں اپنی عمر کے دن بسر کریں۔چنانچہ پہلی جنگ کے بعد ناچ اور گانے اور رنگ رلیوں کی اتنی کثرت ہو گئی کہ دنیا ان کے بوجھ سے دب گئی اور گناہوں کی فریاد آسمان پر پہنچ کر خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلانے لگ گئی۔لوگ بجائے اس کے کہ اس جنگ سے یہ سبق حاصل کرتے کہ ہم ہر وقت خدا تعالیٰ کے غضب اور اس کی گرفت کے نیچے ہیں اور اس کے فضل کے بغیر زندگی کا آرام اور راحت سے بسر ہونا نا ممکن ہے۔انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہم اپنی محدود عمر کو کیوں نہ زیادہ سے زیادہ راحت اور آرام میں بسر کریں اور کیوں نہ زیادہ سے زیادہ خوشی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔خوشی تو پہلے بھی یورپ کرتا تھا، خوشی تو پہلے بھی امریکہ کرتا تھا، اسی طرح ناچ اور گانوں میں پہلے بھی یورپ شامل ہوتا تھا اور پہلے بھی امریکہ ناچ گانوں میں شامل ہو تا تھا مگر جنگ کے بعد ایک طرف ریڈیو کی ایجاد کی وجہ سے اور دوسری طرف خیالات میں تغیر پیدا ہونے کی وجہ سے کہ خواہ مخواہ روپیہ سنبھال کر رکھنے کا کیا فائدہ ہے۔ایک جنگ میں ہی کس قدر بر بادی ہو گئی ہے۔ہمیں زیادہ سے زیادہ خوشی میں اپنی زندگی بسر کرنی چاہئے۔لوگوں نے پہلے سے سینکڑوں گنا زیادہ ان چیزوں میں دلچسپی لینی شروع کر دی۔چنانچہ وہی چیزیں جن کو پہلے عیاشی سمجھا جاتا تھا جنگ کے بعد ان کو ضروریات زندگی میں شامل کر لیا گیا اور یہ سمجھ لیا گیا کہ ان کے بغیر خوشی اور آرام حاصل نہیں ہو سکتا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک قلیل عرصہ کے اندر اندر دوبارہ ایک ہولناک جنگ برپا کر دی۔چنانچہ پہلی جنگ پر ابھی ہیں سال بھی نہیں گزرے تھے کہ یہ جنگ شروع ہو گئی۔پہلی جنگ اکتوبر 1919ء میں ختم ہوئی تھی اور ستمبر 1939ء میں اب دوسری جنگ شروع ہو گئی۔گویا 19 سال کے عرصہ کے اندر اندر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتادیا کہ اس طریق زندگی کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے۔یہ امن کی جھوٹی تحریک جو دنیا میں جاری کی گئی تھی۔یہ عیاشی کی جھوٹی تحریک جو دنیا میں جاری کی گئی تھی۔انیس سال بھی دنیا میں امن قائم نہ کر سکی اور پھر ساری دنیا ایک بہت بڑی جنگ میں مبتلا ہو گئی۔خوشی اور امن حاصل کرنے کی پہلی تحریکیں بھی ناقص تھیں مگر پھر بھی ان میں سے کوئی تحریک پچاس سال تک چلی اور کوئی ساٹھ سال تک چلی مگر یہ تحریک انیس سال بھی نہ جاسکی اور اب دنیا