خطبات محمود (جلد 23) — Page 506
* 1942 506 خطبات محمود کے لئے ہیں۔پس جب میں نے یہ رویا دیکھا تو میں نے سمجھا کہ سیڑھیوں اور ہال کو صرف تحسین کے طور پر دکھایا گیا ہے یہ تو نہیں ہو سکتا تھا کہ میری آنکھیں اتنی وسیع ہو جاتیں کہ وہ ہزاروں میل کا علاقہ جس میں لڑائی ہو رہی تھی مجھے دکھا دیا جاتا،لازماً اس کو چھوٹا کر کے ہی دکھایا جاسکتا تھا جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون کو سات سالوں کا قحط گندم کی چند خشک بالوں کی شکل میں دکھایا گیا یا اسے سات تر و تازہ اور سبز بائیں دکھائی گئیں جس کی تعبیر یہ تھی کہ بہت غلہ پیدا ہو گا۔مگر اس غلے کو چند بالوں کی شکل میں دکھا دیا گیا۔اب اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ اس وقت مصر میں اتنے ہی سٹے پیدا ہوں گے بلکہ معنے یہ تھے کہ زمینداروں کے گھروں میں کثرت سے غلہ پیدا ہو گا مگر خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کیا کہ بادشاہ مصر کو گندم کی اتنی تعداد دکھائی ہو جتنی مصر میں پیدا ہوئی تھی بلکہ صرف چند بالیں دکھا دیں۔تو خوابوں میں بسا اوقات ایک بڑی چیز کو چھوٹی شکل میں دکھا دیا جاتا ہے لیکن بہر حال ہر خواب کے کچھ حصے تعبیر طلب ہوتے ہیں اور کچھ حصے تعبیر طلب نہیں ہوتے۔اس رؤیا کے متعلق بھی میرا خیال یہی تھا کہ اس کی سیڑھیوں اور ہال والا حصہ تعبیر طلب نہیں مگر اس آخری دفعہ جبکہ دشمن یہ اعتراض کر چکا تھا کہ یہ خواب واقعات کو دیکھ کر بعد میں بنالیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات ظاہر کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خواب کے یہ حصے بھی تعبیر طلب تھے چنانچہ مصر میں آجکل جس جگہ جنگ ہو رہی تھی وہ جیسا کہ اخبارات میں خبریں آچکی ہیں۔صرف چالیس میل میں محدود ہے جس کے ایک طرف سمندر ہے اور دوسری طرف گڑھے ہیں۔خواب میں ہال دکھائے جانے کے معنی بھی یہی تھے کہ ایسی جگہ لڑائی ہو گی جو ایک وسیع میدان نہیں ہو گی بلکہ محدود جگہ ہو گی۔اسی طرح خواب میں جو سیڑھیوں والا حصہ دکھایا گیا تھا وہ بھی اس جنگ میں نمایاں طور پر پورا ہوا ہے۔چنانچہ اس جنگ کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ انگریزی فوج جس جگہ لڑرہی تھی وہ نسبتا ڈیپریشن (Depression) یعنی نیچی جگہ تھی اور دشمن شروع میں سامنے کی پہاڑیوں پر قابض تھا۔گویا جس حصہ کو میں تعبیر طلب نہیں سمجھتا تھا وہ بھی تعبیر طلب تھا۔پھر اگر رویا میں نے واقعات کو دیکھ کر بعد میں بنالیا تھا تو جس وقت میں نے یہ رویا بیان کیا ہے اس وقت تو دشمن کی فوجیں انگریزی فوجوں کو دھکیل کر مصر کی سرحد